تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 26
تاریخ احمدیت جلد ۶ توجہ کرنا ضروری تھا کیونکہ قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز تھا اور اس پر دشمن کی نظر تھی۔بنا بریں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۳۱ء پر جماعت کو تحریک فرمائی کہ وہ قادیان میں مکان بنا ئیں تا قادیان کو وسعت حاصل ہو اور اس مقام کی ظاہری عظمت بھی قائم ہو۔نیز بتایا کہ اس کے لئے میں نے بھی ایک سکیم بنائی ہے اور خطوط کے ذریعہ شائع کی گئی ہے جو یہ ہے کہ ایک حصہ پچیس روپے ماہوار کا رکھا گیا ہے کل حصے ایک سو میں رکھے گئے ہیں ایک شخص ایک یا زیادہ حصے لے سکتا ہے اس طرح جو روپیہ جمع ہو وہ قرعہ ڈال کر ہر مہینے میں ایک دوست کو دے دیا جائے جو مکان بنالے اس طرح ایک سو بیس حصوں کے مکان نئے اور اچھے بن جائیں گے۔۔۔پہلے ڈیڑھ سال تک کوئی قرعہ نہیں ڈالا جائے گا تاکہ اس طرح جو رقم جمع ہو اس سے زمین خرید لی جائے اس کے بعد ہر مہینے قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے نام نکلے گا اس سے یہ شرط ہو گی کہ روپیہ مکان بنانے پر ہی خرچ کیا جائے"۔دار الحمد کی تاسیس حضور کی اس تحریک پر متعدد مخلصین جماعت EI نے لبیک کہا اور اس سکیم کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی پوری کرنے کے لئے قادیان کی پرانی آبادی کے مشرق کی طرف ایک نیا محلہ "دار الانوار" کے نام سے آباد کیا گیا۔جس کی بنیاد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۴/ اپریل ۱۹۳۲ء کو رکھی۔اور ۲۵/ اپریل ۱۹۳۲ء کو اپنی کو ٹھی "دار الحمد " کی بنیادی اینٹ رکھی جو اس نئے محلہ کی پہلی عمارت تھی۔حضور نے اس روز صبح آٹھ بجے کے قریب اس محلہ کی طرف تشریف لے جاتے ہوئے پہلے مولوی عبد المغنی خان صاحب ناظر بیت المال کے مکان کی بنیاد رکھی اور مجمع سمیت دعا کی بعد ازاں اپنے تجویز کردہ مقام پر جاکر پہلے جنوب کی طرف پانچ اینٹیں بطور بنیاد رکھیں۔پھر شمال مغرب کی طرف ایک اینٹ خود رکھی اور چار اینٹیں حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت میاں بشیر احمد صاحب ، حضرت سید ناصر شاہ صاحب اور حضرت پیر افتخار احمد صاحب سے علی الترتیب رکھوائیں۔اسی طرح شمال مشرق کی جانب ایک اینٹ خود رکھی اور چار حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس" سے رکھوائیں۔پھر دعا کی اس جگہ سے تھوڑے ہی فاصلہ پر دار الانوار کمیٹی کے سیکرٹری حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم اے کی کو بھی بنے والی تھی۔حضور نے اس کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور دعا کی۔واپسی کے بعد 9 بجے کے قریب صدر انجمن احمدیہ کے نئے دفاتر کا افتتاح فرمایا جو مسجد اقصیٰ سے متصل عمارت میں چند روز ہوئے منتقل ہوئے تھے۔ED دار الحمد کی عمارت دسمبر ۱۹۳۲ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی اور ۱۵/ جنوری ۱۹۳۳ء کو حضور نے بطور افتتاح ایک سو روپیہ غرباء میں پار چات تقسیم کرنے کے لئے عطا فرمایا EA نیز