تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 320
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۴۴۶- الحکم ۱۱۴ ستمبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ ۴۴۷ ایضا صفحہ ۲ کالم ۳ ۴۴۸ - الفضل / ستمبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ کالم ۳ ۱۳۳۹- ایضا صفحه ۲ ۲۵۰ - الفضل / تمبر صفحه ۲-۱۹۳۴ء ۴۵۱- اس پلیٹ فارم پر GATE OF INDIA کے الفاظ لکھتے ہیں۔یہاں سے انگلستان کو جہاز روانہ ہوتے ہیں۔۴۵۲- الحکم ۲۱ ستمبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲- ۴۵۳ الفضل ۲۵/ ستمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۲ کالم ۱-۲ ۲۵۴ - الفضل / اکتوبر ۶۱۹۳۴ صفحه ۵-۲- ۴۵- اگر برطانوی ہند میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے لئے یہ بات اصولاً تسلیم کرلی جاتی تو کسی مسلمان فرقہ کا کوئی فرد بھی مسلمانوں کا نمائندہ تجویز نہ کیا جا سکتا۔وجہ یہ کہ شیعہ سنی مقلد غیر مقلد غرضکہ تمام فرقے ایک دوسرے کو کا فرد مرتد قرار دیتے ہیں اور کوئی فرقہ بلکہ کسی فرقہ کا کوئی مشہور و مقتدر عالم و پیشوا اس سے مستثنیٰ نہیں ہے بطور نمونہ چند فتاوی ملاحظہ ہوں (۱) سوائے فرقہ اثنا عشریہ امامیہ کے ناجی نیست کشته شود و خورده بموت میر د یعنی شیعوں کے سوا کوئی ناجی نہیں خواہ وہ مارا جائے یا اپنی موت مرے ( حدیقه شهداء صفحه ۶۵) (۲) فرقه امامیه منکر خلافت حضرت صدیق اند و در کتب فقه مسطور است که هر که انکار خلافت حضرت صدیق نما مکہ منکر اجتماع قطع گشت و کافر باشد درد تیراء صفحہ ۳۰) یعنی شیعہ حضرت صدیق اکبر کی خلافت کے منکر ہیں اور فقہ کی کتب میں لکھا ہے کہ جو شخص حضرت صدیق کی خلافت کا انکار کرے وہ منکر اجماع اور کافر ہے۔(۳) چاروں اماموں کے پیرو اور چاروں طریقوں کے متبع یعنی حقی شافعی مالکی خیلی اور چشتیہ اور قادریہ و نقشبندیہ مجددیہ سب لوگ کافر ہیں (جامع الشواہد صفحہ ۲ بحوالہ کتاب اعتصام السنہ مطبوع کانپور صفحہ ۷-۸) (۴) غیر مقلدین کی نسبت یہ طائفے سب کے سب کا فرد مرتد ہیں اور جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔(حسام الحرمین از مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی صفحه (۱۱۳) مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب حربہ تکفیر اور علمائے زمانہ شائع کردہ کتاب گھر قادیان اب رہی جماعت احمد یہ تو اس کی ابتدائی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے اس نوع کے کسی فتوی میں ہر گز ابتداء نہیں کی جو کچھ کہا مخالف علما کے سب و شتم اور فتاویٰ کفردار تداد کے بعد محض علمی نقطہ نگاہ سے کہا اور وہ بھی حد اعتدال کے اندر رہتے ہوئے۔جس کا بھاری ثبوت یہ ہے کہ جہاں احمدیت کے مخالف علماء نے شروع ہی سے احمدیوں کے واجب القتل تک ہونے کا فتوی صادر کیا۔وہاں جماعت احمدیہ نے قطعا اس سے اجتناب کیا اور آج تک دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں فرق کرنے کے لئے اسلام کے پیرو کاروں کے لئے غیر احمدی اور اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لئے غیر مسلم کی اصطلاح استعمال کی ہے۔پھر اس جماعت کو تمام مسلمان فرقوں میں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت کے لئے دائرہ اسلام کی دو تعبیریں پیش کیں ایک مذہبی اور دوسری سیاسی- چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ ۲۳ مئی ۱۹۲۴ء کے لئے اساس الاتحاد کے نام سے جو مضمون لکھا اس میں مسلمانان ہند کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی تلقین کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک لفظ اپنے اپنے دائرہ میں الگ معنے رکھتا ہے لفظ مسلم کی تعبیر نہی نقطہ خیال سے اور ہے اور سیاسی نقطہ خیال سے اور مذہبی نقطہ خیال سے تو مختلف فرق اسلام کے نزدیک وہ لوگ مسلم ہیں جو ان اصولی مسائل میں جن پر وہ اپنے نزدیک بنائے اسلام رکھتے ہیں متفق ہو اور سیاسی نقطہ خیال کے مطابق ہر شخص جو رسول کریم پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ نہیں قرار دیتا اور کسی جدید شریعت کا قائل نہیں لفظ مسلم کے دائرہ کے اندر آجاتا ہے۔(صفحہ ۳-۴) ۴۵۶ روزنامه زمیندار ۲۶/ اگست ۱۹۳۴ء صفحه ۳- ۴۵۷ میہ اخبار سندھی زبان میں شائع ہو تا تھا اور اس کی ادارت پیر علی محمد شاہ صاحب راشدی کرتے تھے۔۴۵۸- اخبار ستارہ سندھ سکھر ۳۱ / اگست ۱۹۳۴ء بحواله الفضل ۱۹ ستمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۲ کالم ۱-۲-