تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 318
صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب لائلپور کے سامنے کاغذات پیش کئے تو انہوں نے مسجد کی منظوری کے لئے دو مسلمانوں کی گواہی دلوانے کے لئے کہا اب احمدیوں کو بڑی مشکل پیش آئی شہر میں مخالفت کا زور تھا اور کوئی مسلمان گواہی کے دستخط تک ڈالنے کے لئے تیار نہ ہو سکا آخر غالبابا بو ولایت حسین صاحب احمدی میرے تایا صاحب اور والد صاحب کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے دستخط کر دیئے حالانکہ وہ غیر احمدی تھے اور موقف یہ اختیار کیا کہ مندر اگر جایا گوردوارہ بننے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ یہاں کسی کلمہ گو کی مسجد بن جائے تا پانچوں وقت اذان کی آواز بلند ہوتی رہے جامع مسجد لائل پور کے امام مولوی محمد یونس صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے ان دستخط کرنے والے اصحاب (شاء اللہ و عطاء اللہ صاحبان کریانہ مرچنٹ بھوانہ بازار) پر کفر کا فتوی لگا دیا مگر یہ حربہ بھی کارگر نہ ہوسٹ۔٣٩٩- الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۳۴ء صفحه ۱۰د الفضل ۱۳/ ۱۹۳۴ء صفحه ۸ کالم -۳ ملک عبدالهی صاحب نے مسجد کی نگرانی کے لئے اپنے اوقات وقف کئے۔بابا جوڑا ہیڈ مستری تھے۔۴۰۰۔اس غرض کے لئے جماعت لائل پور کا ایک وند حضور کی خدمت میں حاضر ہوا جو مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل ، شیخ محمد محسن صاحب مرحوم محمد عظیم صاحب اور شیخ محمد یوسف صاحب پر مشتمل تھا۔۴۰۱ - الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۳۴ء صفحه ۵ کالم ۱-۲- ۴۰۲۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس تقریب پر قادیان کے مرکزی دفاتر دمدارس میں تین روز کے لئے تعطیل کردی گئی تھی جس کی وجہ سے قادیان سے ایک کثیر تعداد نے اس میں شرکت کی۔حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ فاضل لائل پور میں مہتم لنگر خانہ تھے اور نائب شیخ محمد یوسف صاحب ان دنوں مقامی مبلغ مولوی عبد الرحمن صاحب انور تھے۔۴۰۳۔مفصل ایڈریس الفضل ۱۵ائر اپریل ۱۹۳۴ ء میں شائع شدہ ہیں۔۴۰۴۔حضرت عرفانی صاحب نے احکم میں جلسہ کے مفصل حالات میں اس کا تذکرہ انہی الفاظ میں فرمایا۔دیکھئے الحکم ۱۲۸ اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ۔۴۰۵ - الفضل ۱۵ / اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ ۵-۶ پر مفصل ایڈریس طبع شدہ ہے۔٢٠ الفضل ۱۵ / اپریل ۱۹۳۴ء صفحه ۵-۰۶ ۴۰۷- شیخ محمد یوسف صاحب حال سیکرٹری مال حلقہ مسجد فضل لائل پور کی روایت۔۴۰۸- الحکم ۱۴/ اپریل ۱۹۳۴ء صفحه ۱۰ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور حضور کے سٹاف کے علاوہ باقی مہمانوں کے لئے ذیل گھر اور ڈسٹرکٹ انجینئر کی کوٹھی میں انتظام تھا جو نہایت تسلی بخش قابل تعریف اور قادیان کے سالانہ جلسہ کی انتظامی بنیاد پر تھا۔مختلف محکمے تقسیم کار کے اصول پر بنادیئے گئے تھے اور ہر صیغہ کا ایک ناظم تھا جس کے ماتحت والنٹیر تھے جنہیں رات دن کام کرنا پڑا مگر وہ بہت مصروفیت کے باوجود تازہ دم ہی نظر آتے تھے۔٢٠٩ الفضل ۱۲ / اپریل ۱۹۳۴ء صفحه ۱-۲- ۴۱۰ پی ولولہ انگیز تقریر الفضل کی کئی قسطوں میں اشاعت پذیر ہونے کے بعد کتابی شکل میں تبلیغ حق کے نام سے شائع کر دی گئی۔ام الفضل ۱۲ / اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ ۲ کالم ۲- ۴۱۲- ڈاکٹر محمد شفیع صاحب کا بیان ہے کہ ۸/ اپریل ۱۹۳۴ء کو خاکسار نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور واپسی پر جڑانوالہ میں غریب خانہ پر دو منٹ کے لئے تشریف لائیں۔حضور نے ارشاد فرمایا۔انشاء اللہ کل ہم جڑانوالہ آپ کے ہاں آئیں گے مجھے بے حد خوشی ہوئی غالبا یہ شام کا وقت تھا میں سامان ناشتہ اور شامیانہ فراہم کر کے رات کو جڑانوالہ پہنچا۔حضور دوسرے روز صبح تشریف لائے۔حضور کی کار ہسپتال کے دروازے کے سامنے رکی۔اس وقت بہت سے لوگ حضور کے استقبال کے لئے موجود تھے میں نے حضور کے گلے میں ہار ڈالے۔مصافحہ کے بعد حضور نے اپنے خدام سمیت ناشتہ کیا۔پھر میری درخواست پر اندرون خانہ تشریف لے گئے جہاں حضور کی خدمت میں نذرانہ پیش کیا گیا اس کے بعد حضور نے شامیانہ کے نیچے لمبی دعا فرمائی اور روانہ ہو گئے۔(غیر مطبوعہ) ۴۱۳ - الفضل ۱۷/ اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ ۷ ( مضمون حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب)