تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 303
تاریخ احمدیت جلد ۶ پہلا باب ۲۸۹ -A حواشی خون کے آنسو۔مصنفہ جناب اشفاق حسین صاحب مختار میونسپل پبلک پراسیکیوٹر سابق میونسپل کمشنر مراد آباد تا شرحافظ محمد دین اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور من اشاعت ۱۹۳۱ء صفحہ ۶۷ یہ اختبار مولانا شوکت علی مرحوم نے جاری کیا تھا۔اس کے پہلے مدیر عبد الغنی چودھری اور دوسرے علی بہادر خان تھے۔آخری دور میں سید رئیس احمد صاحب جعفری ادارت پر فائز رہے جب آل انڈیا مسلم لیگ کی ۱۹۳۵ء میں نشاۃ ثانیہ ہوئی تو اس اخبار نے بڑے زور شور سے اس کی حمایت کی۔الجمعیته ۱۳۸ نومبر ۱۹۳۲ء۔یاد رہے الجمعیتہ کے اس مضمون کا عنوان ہے "مسلمانوں کو جماعت احمدیہ کے فتنہ سے محفوظ رہنا چاہئے"۔زمیندار ۹/ اکتوبر ۱۹۳۲ء ( قادیان نمبر ہفت روزہ پر کاش کے ایڈیٹر ماشہ کرشن تھے جو سوامی شردھانند کے دست راست تھے۔آریہ سماج کا پر جوش ترجمان پر تاپ بھی انہی کی ادارت میں نکلتا تھا اور ہندوؤں میں بہت مقبول تھا۔امید حالت یہ الفضل کی طرف اشارہ ہے (ناقل) تعداد ماتا۔بحواله الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحه ۵-۶ رسالہ نور الاسلام رجب ۱۳۵۱ در جلد ۲۳ نمبر۷ مطابق اکتوبر نومبر ۱۹۳۲ء ۱۳ جلد ششم میں اسے اگست ۱۹۳۰ ء کا واقعہ قرار دیا گیا ہے جو سمو ہے۔الفضل ۲۰/ جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۴ کالم -۲- ایضاً ۱۸/ جنوری ۱۹۳۳ء صفحه ۸ کالم ۲-۳ ه الفضل ۹/ اگست ۱۹۳۲ء صفحه ۶ - پیغام صبح ۷ / جون ۱۹۳۳ء صفحہ ۵ کالم - الوصیت صفحه ۲ ( طبع اول) مطبوعه ۲۴/ دسمبر ۶۱۹۰۵ ۱ خطبه جمعه از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرموده ۸/ جنوری ۱۹۳۲ء) اخبار الفضل مورخہ ۱۴/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۳ کالم ۵-۶ -۱۹ ملحم از رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء صفحه ۴۴ تا صفحه ۴۹- ۲۰ الفضل / اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحه ۱-۲۰/ اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحه ۷ و ۲۳/ اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحه ۰۹ الفضل مورخه ۲۷/ اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحه ۲۰۵ ۲۲- تفصیلی ہدایات الفضل ۱۲ / مارچ ۱۹۳۳ء میں چھپ چکی ہیں۔۲۳- الفضل ۷ / مارچ ۱۹۳۳ء صفحہ ۱-۲- اس دعوت کے اہتمام میں ملک فضل حسین صاحب، مرزا گل محمد صاحب، مرزا صالح علی