تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 208
تاریخ احمدیت جلد ۶ میں سے اکثر اصحاب کو قادیان میں آنے اور آپ سے شرف ملاقات حاصل کرنے کا فخر بھی حاصل تھا۔ذیل میں بطور نمونہ ہم اردو کے بعض نامور ادیبوں کے چند خطوط درج کرتے ہیں جو انہوں نے حضور کی خدمت میں لکھے جن سے یہ اندازہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اردو نوازی کی بدولت قادیان کی بستی ادیبوں کی توجہ کا بھی مرکز بنتی جارہی تھی۔مولانا شوکت علی کا مکتوب مورخہ ۱۶/ جولائی ۱۹۳۰ء شمله ۷/۶۱۹۳۰/ ۱۶ مخدومی و مکر می جناب حضرت صاحب السلام علیکم اس شب کو مکان پر پہنچ کر جناب کا خط اور اس میں - ۲۵۰ کے نوٹ ملے۔مجھ پر اس کا بے انتہا اثر ہوا۔خاص کر اس وجہ سے کہ اعتراض کرنے والے تو بہت ہوتے ہیں اور ہمت بڑھانے والے کم۔میں اس رقم کو نہایت درجہ شکریہ کے ساتھ قبول کرتا ہوں اور ہمارے سب شرکاء کار بھی ضرور مشکور ہوں گے اور خوش بھی۔جمعیت خلافت میرے سفر کے مصارف کی کفیل ہے اس کو اس امداد سے سہولت ہوگی۔خدا آپ کو خوش رکھے۔آپ کا نیا ز مند سید عبد القدوس ہاشمی ندوی ایم اے کا مکتوب دفتر رسالہ ”ندیم گیا مورخه ۹ ماه اپریل ۱۹۳۱ء محترم و معظم ادام الله سرور کم سلام و رحمت شوکت علی خادم کعبہ - میں جناب سے پہلی بار شرف مخاطبت حاصل کرتا ہوں۔امید کہ جناب والا شرف باریابی سے مشرف فرما ئیں گے۔میں نے جناب کی اسکیم رسالہ ”ادبی دنیا" کے مارچ نمبر میں دیکھی۔اردو رسالہ کیونکر زبان کی خدمت کر سکتے ہیں؟ اس سکیم کو میں نے کئی بار پڑھا مجھے یہ تحریک بہت پسند آئی۔جناب والا کو غالبا معلوم ہو گا کہ بہار سے اس وقت اردو کا کوئی رسالہ نہیں جاری ہے۔گیا میں چند باذوق اور دولت مند تاجروں نے ایک لمیٹڈ سرمایہ سے ادبی رسالہ جاری کرنے والے ہیں۔رسالہ کا نام ”ندیم " ہو گا۔۷۲ صفحہ پر ہر ماہ نکلا کرے گا۔مئی ۱۹۳۱ء میں اس کا پہلا پرچہ حاضر خدمت ہو گا۔