تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 749 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 749

تاریخ احمد بیت ، جلده 713 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فصل یازدهم جنوری ۱۹۴۹ء کی جنگ بندی کے بعد سلامتی کونسل کے فیصلہ کی تعمیل میں یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو کشمیر کی جنگ بند کر دی گئی اور تحریک آزادی کا آٹھواں دور شروع ہوا۔جو وسط ۱۹۶۵ء تک جاری رہا۔اس درمیانی عرصہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسئلہ کشمیر کو ملک میں زندہ اور تازہ رکھنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔تحریک کشمیر کیلئے متحد العمل ہو نیکی دردمندانہ تحریک چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالے نے ۱۶ / اپریل ۱۹۴۹ء کو مسلمانان پاکستان کو آزادی کشمیر کے لئے متحد العمل ہونے کی دردمندانہ تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔" مجھے خصوصیت سے یہ تڑپ ہے کہ کشمیر کے مسلمان آزاد ہوں اور اپنے دوسرے بھائیوں سے مل کر اسلام کی ترقی کی جدوجہد میں نمایاں کام کریں اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے میں تمام ان لوگوں سے جو کشمیر کے کام سے دلچسپی رکھتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ اب جبکہ یہ آزادی کی تحریک آخری ادوار میں سے گذر رہی ہے اپنی سب طاقت اسکی کامیابی کے حصول کے لئے لگادیں اور ایسی تمام باتوں کو ترک کر دیں۔جو اس مقصد کے حصول کے لئے روک ہو سکتی ہیں۔20 جماعت احمدیہ کو جہاد کیلئے تیار رہنے کی ہدایت اگلے سال اپریل ۱۹۵۰ء میں مجلس شوری کا انعقاد ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده از ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت احمدیہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔میں جماعت کے دوستوں پر یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر تم اپنے ایمان کو سلامت لے جانا چاہتے ہو۔۔۔تو تمہیں یہ امرا چھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ جن امور کو اسلام نے ایمان کا اہم ترین حصہ قرار دیا ہے ان میں سے ایک جہاد بھی ہے بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص جہاد کے موقعہ پر پیٹھ دکھاتا ہے وہ جہنمی ہو جاتا ہے اور جہاد میں کوئی شخص حصہ ہی کس طرح لے سکتا ہے جب تک وہ فوجی لنون کو سیکھنے کے لئے نہیں جاتا ہے"۔پھر فرمایا۔"اگر قرآن نے جو کچھ کہا وہ سچ ہے اور اگر احمدیت بھی کچی ہے تو لازماً اپنے ملک کی