تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 453
تاریخ احمدیت جلد ۵ 441 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ قریشی محمد امین صاحب سرینگر قاری نورالدین صاحب سرینگر خواجہ صدرالدین صاحب با نهال ، خلیفہ نور الدین صاحب (جموں) خلیفہ عبدالرحیم صاحب (جموں) ٹھیکیدار یعقوب علی صاحب (جموں) مستری فیض احمد صاحب (جموں) میاں عبد الرحمن صاحب (جموں) خواجہ امداد علی شاہ صاحب (جموں) غلام محمد صاحب خادم (جموں) ماسٹر امیر عالم صاحب کو ملی۔منشی دانشمند خان صاحب (پونچھ) میر غلام احمد صاحب کشفی، خواجہ عبد الرحمن صاحب ڈار (ناسنور) خواجہ عبد الغنی صاحب بانڈی پورہ ، میاں عبد الرحمن صاحب آف فیض احمد اینڈ سن خواجہ ولی محمد صاحب ڈار کند پورہ ، مولوی قطب الدین صاحب شرق خواجہ محمد رمضان صاحب یا تورشی مگر خواجہ محمد اسمعیل صاحب ٹیلر ماسٹر شوپیاں ، سید محمد ناصر شاہ صاحب سرور مظفر آباد سید سردار شاه صاحب حال تاجر مظفر آباد فلام محمد صاحب بانڈے ، خواجہ نور الدین صاحب دانی لدرون تحصیل ہندواڑہ ، چوہدری راج محمد صاحب چه مرگ عبدالرحمن صاحب ہانجی پوره ، خواجہ غلام رسول صاحب سکنہ مانلو ، عبد الغنی صاحب پلواما محمد یوسف صاحب گلگتی، مولوی خلیل الرحمن صاحب پنجیری - کشمیر کمیٹی مصلح ابتداء ہی سے اس تحریک میں جماعت کے افراد کی قربانیوں اور سرگرمیوں کو نمایاں طور پر پبلک کے سامنے لانا ہر گز مناسب نہ سمجھتی تھی۔اور اندرون ریاست اور بیرون ریاست یکساں طور پر دونوں جگہ اس نے یہی پالیسی اختیار کی۔اس بارے میں کس حد تک احتیاط برتی گئی اس کا اندازہ حضور ایدہ اللہ تعالٰی کے مندرجہ ذیل الفاظ سے بآسانی لگ سکتا ہے۔احمد یہ جماعت کے متعلق میں نے یہ احتیاط کی کہ سوائے ایک صاحب کے جو لاہور کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے (یعنی جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب - ناقل) اور اس جماعت کی نمائندگی بھی ضروری تھی ایک احمدی بھی اس کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا تا یہ الحرام نہ ہو کہ اپنے آدمی بھرتی کرلئے گئے بلکہ ملک کے بہترین اور مشہور لوگوں کو دعوت دی۔جناب محی الدین صاحب قمر قمرازی مصنف " ارمغان کشمیر " کا بیان ہے۔تحریک آزادی کے دوران جو پارٹ احمدیوں اور ان کے امیر جماعت نے ادا کیا ہے وہ کوئی شخص بشر طیکہ غیر متعصب ہو بھلا نہیں سکتا۔تحریک کے دنوں میں سوپور میں پیشل طور پر گورنر کشمیر ٹھاکر کر تار سنگھ کے حکم سے وہاں تعینات ہوا تھا۔اور مجھے بخوبی علم ہے کہ احمدی جماعت کے افراد نہایت تندہی اور خلوص نیت سے تحریک آزادی کی قلمے، درمے امداد کرتے رہتے تھے مجھے یاد ہے کہ میں گھر میں صبح سویرے اٹھتا تھا۔تو مجھے سرہانے پر تحریک کشمیر کے سلسلہ میں کارکنان جماعت احمدیہ کی طرف سے ٹریکٹ رکھے ہوئے مل جاتے تھے۔جنہیں پڑھ کر ہماری بڑی حوصلہ افزائی ہوتی تھی"۔