تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 338 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 338

احمدیت۔جلدن 334 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فصل چهارم کشان قوم کا قبضہ وسط ایشیا کی ترکستانی قوموں کو یورپین مورخین تحسین اقوام کہتے ہیں۔ان اقوام کی ایک شاخ یو چی بیان کی جاتی ہے۔جس کی ایک شاخ کا نام کشن پاکشان تھا۔12۔اس کشن یا کشان قوم نے آگے چل کر کابل و کشمیر تک جو اس زمانہ میں " کی پن" کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا تھا۔قبضہ کر کے ایک زبر دست حکومت قائم کرلی تھی۔HD مسٹرو نینٹ اے سمتھ کے اندازہ میں یہ ۱۵ء تا۳۰ء کا واقعہ 2 →۔M تقریباً ۷۸ ء میں اس شاخ کا بادشاہ کنشک تخت نشین ہوا۔جس کے متعلق دنیسنٹ اے سمتھ نے لکھا ہے۔کہ یہ ” غالبا کنشک ہی کا کام تھا کہ اس نے کشمیر کی دور افتادہ وادی کو زیر نگین اور اپنی سلطنت کے ساتھ ملحق کیا یہاں اس نے بہت سی عمارات تعمیر کرا ئیں اور ایک شہر بسایا جو اگرچہ اب محض ایک گاؤں ہی رہ گیا ہے مگر کنشک کا نام اب تک اس میں باقی ہے "۔راج ترنگنی کے مترجم اسٹین کا قول ہے کہ کنشک پور کی جگہ اب ایک گاؤں کانسپور آباد ہے جو ۷۴ - ۲۸ مشرقی طول بلد اور ۳۴-۱۴ شمالی عرض بلد پر دریائے بہت اور اس شاہراہ کے درمیان واقعہ ہے جو بارا مولا سے سرینگر کو جاتی ہے ونسینٹ اے سمتھ نے لکھا ہے کہ کنشک کے سکے کشمیر میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔پنڈت کلہن نے " راج ترنگنی " میں کنشک کی نسبت لکھا ہے کہ اس کے زمانے میں کشمیر کا علاقہ بحیثیت مجموعی بدھ مت والوں کے قبضہ میں تھا۔راجہ کنشک نے بدھ مذہب کی تحقیق کے لئے کشمیر کا دارالسلطنت کے قریب کندلون کے مقام پر ایک مجلس منعقد کرائی جس میں پانچ سو کے قریب فاضل جمع ہوئے جنہوں نے شریعت سے متعلق بڑی ضخیم تفسیریں لکھیں جو خاتمہ مجلس کے بعد تانبے کی چادروں پر کندہ کرائی گئیں اور ایک خاص ستوپ میں جو کنشک نے اس غرض سے تعمیر کرایا تھا محفوظ کر دی گئیں ازاں بعد راجہ کنشک نے کشمیر کی آمدنی اشوک کی طرح مذہب کے لئے وقف کر دی۔کنشک کے بعد ہو شک نے کشمیر میں ایک شہر ہشک پور بسایا جو شرعین درہ بار امولا کے پار واقع تھا۔کہتے ہیں کہ ۶۳۱ء میں جب چینی سیاح ہیون سانگ کشمیر گیا تو چند روز تک ہشک پور کی خانقاہ والوں