تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 171
ریخ احمدیت جلد ۵ 167 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال (۱۴) مباحثه چک نمبر ۵۶۵ ضلع لائلپور (مابین ابو العطاء صاحب و علماء اہل سنت) یہ مناظره وسط اکتوبر ۱۹۲۹ء میں صداقت مسیح موعود اور ختم نبوت کے موضوع پر ہوا۔غیر احمدیوں نے ۳۰ کے قریب حنفی و اہلحدیث علماء جمع کر رکھے تھے۔مناظرہ ہونے پر یہ بہت بے دل ہو گئے۔حتی کہ آپس میں الجھ پڑے کہ فلاں بات کیوں پیش نہ کی۔میں ہو تا تو یہ پیش کرتا۔(۱۵) مباحثه موضع کاشیما: ضلع بنگال (احمدی مناظر مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی ) یہ مباحثہ آخر اکتوبر ۱۹۲۹ء میں ہوا۔موضوع بحث بقائے نبوت اور صداقت مسیح موعود تھا۔اطراف وجوانب کے ہزاروں آدمی کار روائی دیکھنے کے لئے شامل ہوئے تھے۔خان بهادر چوہدری نواب محمد دین صاحب خان بہادر نواب محمد دین صاحب کی بیعت باجوہ نیا کرو ڈپٹی کمتر تلونڈی عنایت ریٹائرڈ ضلع سیالکوٹ کے ایک نامور رئیس تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ محترمہ بہشت بی بی صاحبہ اور آپ کے برادر اکبر چوہدری محمد حسین صاحب اور آپ کے فرزند ارجمند چوہدری محمد شریف صاحب ایڈووکیٹ منٹگمری) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحابیت کا شرف پاچکے تھے لیکن باوجود یہ کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے ہی سے حضور کی گہری عقیدت حاصل تھی تاہم آپ ابھی تک بیعت سے مشرف نہیں ہوئے تھے۔آخر اس سال یعنی ۱۹۲۹ء میں آپ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں شامل ہو گئے۔حضور ایدہ اللہ تعالی آپ کی بیعت کا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" مجھے یاد ہے جب انہوں نے بیعت کی تو ساتھ یہ درخواست کی کہ میری بیعت ابھی مخفی رہے میں ریٹائر ہو چکا ہوں اور اب ملازمتیں ریاستوں میں ہی مل سکتی ہیں۔اس لئے اگر میری بیعت ظاہر نہ ہو تو ملازمت حاصل کرنے میں سہولت رہے گی۔۔۔میں چند دنوں کے لئے شملہ گیا اور انہوں نے مجھے دعوت پر بلایا اور کہا اور تو میں کوئی خدمت نہیں کر سکتا لیکن یہ تو کر سکتا ہوں کہ دعوت پر بڑے بڑے آدمیوں کو بلالوں۔۔۔مجھے ثواب مل جائے گا۔میں دعوت پر چلا گیا انہوں نے بڑے بڑے آدمی بلائے ہوئے تھے۔میں اس انتظار میں تھا کہ کوئی اعتراض کرے اور میں اس کا جواب دوں کہ وہ کھڑے ہوئے اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریر میں انہوں نے کہا بڑی خوشی کی بات ہے کہ امام جماعت احمد یہ یہاں تشریف لائے ہیں جو شخص کسی قوم کا لیڈر ہوتا ہے ہمیں اس کا احترام کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔دو تین منٹ کے بعد وہ تقریر کرتے ہوئے یکدم جوش میں آگئے اور کہنے لگے اس