تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 55
تاریخ احمدیت جلد ۴ 47 سید: ت خلیفتہ اسیح الثانی کے سوات قبل از خلافت حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب نے حضور کی شادی پر بمبئی سے ایک ٹوپی اور اوڑھنی کا تحفہ حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا تھا۔ٹوپی پر مصلح موعود سے متعلق یہ الہام درج تھا۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الاول والآخر مظهر الحق والمعلاء كأن الله نزل من السماء اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سیٹھ صاحب دوسرے اکابر صحابہ کی طرح اس وقت بھی حضرت خلیفہ ثانی کے مصلح موعود ہونے کا یقین رکھتے تھے Han حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تحفہ کے شکریہ میں ۳۰/ اکتو بر ۱۹۰۲ء کو اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل خط تحریہ زرمایا۔بسم الله الرحمن الرحیم -:- نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ۲۰/ اکتوبر ۱۹۵۲ء مجی عزیز کی اخویم سیٹھ اسمعیل آدم صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کاتہ۔آپ کا محبت اور اخلاص کا تحفہ جو آپ نے برخوردار محمود اور بشیر کی شادی کی تقریب پر بھیجا ہے یعنی ایک ٹوپی اور ایک اوڑھنی پہنچ گیا ہے۔میں آپ کے اس محبانہ تحفہ کا شکر کرتا ہوں اور آپ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی آپ کو دین اور دنیا میں اس کا اجر بخشے آمین باقی خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ "مواہب الرحمن" میں ذکر "مواہب الرحمن " میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمايا - الحمد لله الذي وهب لى على الكبر اربعة من البنين و انجز وعده من الاحسان " یعنی اللہ تعالی ہی سب تعریفوں کا مستحق ہے جس نے بڑھاپے کے باوجود چار فرزند عطا کئے اور بطور احسان اپنا وعدہ پورا فرما دیا۔