تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 53
45 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ۱۳۲ پہلے سال صرف ایک روزہ رکھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دی تھی "۔مڈل کا امتحان اور خدائی الہام جنوری ۱۹۰۲ء میں آپ مڈل کے امتحان کے لئے بٹالہ کو جانے والے تھے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔" ليحمله رجل یعنی یہ کمزور ہے اس کے سہارے کے لئے کوئی آدمی ساتھ جانا چاہئے چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب آپ کے ساتھ کئے گئے۔تحفہ گولڑویہ " میں ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ستمبر ۱۹۰۲ء میں " " تحفہ گولڑویہ" شائع فرمائی تو اس میں دنیا کو پسر موعود سے متعلق نشان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرمایا۔” خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ تیری برکات کا دوبارہ نور ظاہر کرنے کے لئے تجھ سے ہی اور تیری ہی نسل میں سے ایک شخص کھڑا کیا جائے گا۔جس میں میں روح القدس کی برکات پھونکوں گاوہ پاک باطن اور خدا سے نہایت پاک تعلق رکھنے والا ہو گا۔اور مظہر الحق و العلاء ہو گا گویا خدا آسمان سے نازل ۱۳۵ et نزول المسیح میں ذکر حضرت اقدس علیہ السلام نے ای سال نزول المسیح " تالیف فرمائی " اور اس میں بھی سید نا محمود ایدہ اللہ تعالی کا ذکر فرمایا کہ - " مجھے اللہ تعالٰی نے ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی بشارت دی- چنانچه قبل ولادت بذریعہ اشتهار کے وہ پیشگوئی شائع ہوئی پھر بعد اس کے وہ لڑکا پیدا ہو ا جس کا نام بھی رؤیا کے مطابق محمود احمد رکھا گیا اور یہ پہلا لڑکا ہے جو سب سے بڑا ہے "۔اکتوبر ۱۹۰۲ء میں آپ کا نکاح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کی دختر نیک اختر پہلی شادی (حضرت) سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ سے رڑکی میں ہوا اور وسط اکتوبر ۱۹۰۳ء میں شادی ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ڈاکٹر صاحب کو قبل از میں رشتہ کی تحریک فرمائی تو لکھا که اس رشتہ پر محمود بھی راضی معلوم ہوتا ہے اور گو ابھی الہامی طور پر اس بارے میں کچھ معلوم نہیں مگر محمود کی رضامندی ایک دلیل اس بات پر ہے کہ یہ امر غالبا ء اللہ اعلم جناب اٹلی کی رضامندی کے موافق انشاء اللہ ہو گا "۔