تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 627
تاریخ احمدیت جلد ۴ 592 حواش ۱۸۶ لکھنو کے مشہور اہل قلم اور فسانہ نگار مولوی عبدالعلیم صاحب شرر نے اپنے رسالہ دلگر از ماہ جون ۱۹۲۶ء میں کتاب بہائی مذہب کی حقیقت پر مفصل تبصرہ کیا۔جس میں لکھا یا بیت اسلام کے مثانے کو آئی ہے اور احمدیت اسلام کو قوت دینے کے لئے۔اور اسی کی برکت ہے کہ باوجود چند اختلافات کے احمدی فرقہ والے اسلام کی جیسی کچی اور پر جوش خدمت ادا کرتے ہیں۔دوسرے مسلمان نہیں کرتے اس سلسلے میں مولوی فضل الدین صاحب احمدی نے جو قادیان کے ایک قابل پلیڈر ہیں۔سید رسالہ بابی اور بہائی مذہبوں کی تردید میں شائع کیا ہے مولوی فضل الدین صاحب نے یہ کتاب نہایت قابلیت سے لکھی ہے۔زبان نہایت پاکیزہ اور شستہ ہے۔جن حضرات کو مذہب بابی و بہائی کی تاریخ اور اس نئے دین کے عقائد و احکام معلوم کرنے کا شوق ہو۔اس رسالہ کو منگوا کر ضرور ملاحظہ فرمائیں۔۱۸۷ مؤلف کتاب سید الانبیاء حیات نور اور حیات طیبہ آپ کے تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو تابعین اصحاب جلد اول صفحہ ۲۷ تا ۷۹ راز ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان) ۱۸۸- آپ کے مفصل حالات بھی تابعین اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۱۸ تا ۲۶ پر موجود ہیں۔۱۸۹- اعمال باب ۲- ١٩٠ ملخصاً از الفضل ۱۲ فروری ۱۹۲۶ء صفحه ۲ الفضل ۵/۹ فروری ۱۹۳۶ء صفحه ۱۴ ١٩٣ الفضل ۵/۹ فروری ۱۹۲۶ء صفحه ۱۳- ۱۹۳ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا شجرہ حضرت داتا گنج بخش تک پہنچتا ہے آپ کے جد امجد شہنشاہ اور نگ زیب کے زمانے میں سہارنپور سے آئے تھے۔خاندانی شجرہ نسب درج ذیل ہے۔حضرت سید احمد سعید صاحب سید ماده عبد الرشید سایت سی امیر مسعود مالی حافظ شتاب ستید قاری الشراعيت صاحب سید احمدانی صاحب سید محمد صاحب تاج سید محمد شریف صاحب سید محمد حنیف صاحب حضرت سید عبداللطيف اناشيد سيد عبدالعزیز مهاب سید محمد سعید صاب سيد عبد السلام قنات سید محمد عمر صاحب سیدابوالحسن صاحب قدسی سید محمد طیب حنان الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۲۶ء صفحه ۴- ۱۹۵ رپورٹ مشاورت ۱۹۲۷ء صفحہ ۱۲۲۔سالہا سال تک دار الشیوخ میں حضرت مسیح موعود کے باغ اور بہشتی مقبرہ سے متصل مکان میں رہا۔اس کے بعد مدرسہ احمدیہ سے ملاعق عمارت میں بھی (جہاں الفضل کا دفتر رہا ہے ) دار الشیوخ کے طلبہ مقیم رہے۔۱۹۶ - الفرقان ستمبر اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحه ۲-۱- ۱۰۳ ۱۹۷- الفرقان ستمبر اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحه ۱۱۹-۱۲۰ ۱۹۸ ایضا الفرقان صفحه ۶۰ 194 رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء صفحه ۴۱۰۳۷ ۲۰۰ ربوہ میں اس اہم ادارہ کا احیاء دار الیتائی کے نام سے ہو چکا ہے جس کے نگران میردار د احمد صاحب (خلف میر محمد الحق صاحب ) ہیں۔