تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 615
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ چھٹاباب (فصل ششم) 580 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال مسلمانان ہند کی ترقی و بہبود کے لئے لاہور کے مسلمانوں کا کشت و خون محض ایک مقامی فرقہ وارانہ کشمکش نہیں تھی بلکہ اس کے وسیع پیمانہ پر جدوجہد کا آغاز TAC مسلمانوں کو ختم کرنے کی زبر دست PAO روح کام کر رہی تھی۔اس لئے حضور نے صرف مظلومین لاہور کو امداد دینے کے علاوہ مسلمانان ہند کی اقتصادی، معاشی، سیاسی اور مذہبی ترقی کے لئے ایک ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا۔اس سلسلہ میں حضور نے سب سے پہلے قادیان کے ناظروں ، مبلغوں ایڈیٹروں ، مصنفوں ، طالب علموں اور استادوں کو دفتر ڈاک میں بلایا اور ملکی حالات پر مفصل تقریر فرمائی اور انہیں اپنی تحریک سے متعلق نہایت اہم ہدایات دیں۔جماعت احمدیہ کو اپنی اہم تحریک سے روشناس کرانے کے بعد حضور نے مسلمانوں کو ان خطرناک حالات کے مقابلہ میں متحد کرنے کے لئے پے در پے مضامین، پوسٹر اور اشتہارات شائع فرمائے چنانچہ اس سلسلہ میں آپ کے قلم سے پہلا مضمون " امام جماعت احمدیہ کا فسادات لاہو ر پر تبصرہ " کے عنوان سے شائع ہوا۔جس میں آپ نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ فسادات لاہور سے سبق لیں اور اشاعت اسلام کی طرف توجہ دیں۔دوسری اہم بات جس کی طرف آپ نے اس مضمون میں مسلمانوں کو توجہ دلائی یہ تھی کہ :۔" مسلمانوں کو چاہئے کہ سکھ صاحبان سے تعلقات کو بڑھا ئیں اور اس شورش کی وجہ سے اس امر کو نظر انداز نہ کر دیں کہ سکھ صاحبان صرف ہندوؤں کا ہتھیار بنائے گئے ہیں۔ورنہ وہ دل سے مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں بلکہ بوجہ اپنے بزرگوں کی نصائح اور توحید پر ایمان رکھنے کے مسلمانوں کا داہنا بازو ہیں اور مسلمانوں کی ذراسی توجہ کے ساتھ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ملک سے فساد اور شورش کو مٹانے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔خصوصاً جب کہ ان کا سیاسی فائدہ بھی مسلمانوں سے ملنے میں ہے کیونکہ ہندوؤں سے مل کر وہ اس صوبہ میں قلیل التعدادی رہے لیکن مسلمانوں سے مل کر دہ ایک زبر دست پارٹی بنا سکتے ہیں۔جو پنجاب کو اس کی پرانی شان و شوکت پر قائم کرنے میں نہایت مفید ہو سکتی ہے - اس مضمون کے ساتھ حضور نے ایک مفصل ٹریکٹ بھی شائع فرمایا۔جس کا عنوان تھا۔" آپ PAY