تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 476 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 476

452 خلافت عثمانیہ کا گیارھواں سال ہی دیکھتے پورا ہال سامعین سے بھر گیا۔کسی اور لیکچر کے وقت حاضرین کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوئی۔اجلاس کے صدر سر تھیوڈر مار سن نے حضور کا سامعین سے تعارف کرانے کے بعد نہایت ادب و احترام کے جذبات کے ساتھ آپ سے درخواست کی کہ اپنے کلمات سے محظوظ فرما ئیں۔اس پر حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی جو اپنے رفقاء کے ساتھ سٹیج پرہی تشریف فرماتھے کھڑے ہوئے اور انگریزی میں فرمایا۔مسٹر پریذیڈنٹ بہنو اور بھائیو میں سب سے پہلے خداتعالی کا شکریہ ادا کر تا ہوں کہ اس نے اس کانفرنس کے بانیوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کیا کہ لوگ اس طریق پر مذہب کے سوال پر غور کریں اور مختلف مذاہب سے متعلق تقریریں سن کر یہ دیکھیں کہ کس مذہب کو قبول کرنا چاہئے۔اس کے بعد میں اپنے مرید چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بار ایٹ لاء سے کہتا ہوں کہ میرا مضمون سنا ئیں۔میں ایسے طور پر اپنی زبان میں بھی پرچہ پڑھنے کا عادی نہیں ہوں۔کیونکہ میں ہمیشہ زبانی تقریریں کرتا ہوں اور چھ چھ گھنٹے تک بولتا ہوں۔مذہب کا معاملہ اسی دنیا تک ختم نہیں ہو جا تا بلکہ وہ مرنے کے بعد دوسرے جہان تک چلتا ہے اور انسان کی دائمی راحت مذہب سے وابستہ ہے اس لئے آپ اس پر غور کریں اور سوچیں اور مجھے امید ہے کہ آپ توجہ سے سنیں گے۔اس کے بعد حضور نے مکرم چودھری صاحب کے کان میں کہا کہ گھبرانا نہیں میں دعا کروں گا"۔چنانچہ مکرم چودھری صاحب کھڑے ہوئے اور ایک گھنٹہ میں نہایت بلند اور نہایت موثر اور نہایت پر شوکت لہجہ میں یہ مضمون پڑھ کر سنایا۔چودھری صاحب ایک دن پہلے حلق کی خراش کی وجہ سے بیمار تھے مگر اللہ تعالٰی نے روح القدس سے ان کی تائید فرمائی۔حضرت امیر المومنین کا مضمون اور مکرم چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی زبان نے (جسے حضور نے ایک مجمع میں میری زبان کہا تھا ) حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری کر دی۔ایسا معلوم ہو تا تھا کہ سب حاضرین گویا احمدی ہیں۔تمام لوگ ایک محویت کے عالم میں اخیر تک بیٹھے رہے۔جب مضمون میں اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کی جاتی جو ان کے لئے نئی ہوتی تو کئی لوگ خوشی سے اچھل پڑتے۔غلامی سود اور تعدد ازدواج وغیرہ مسائل کو نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا تھا۔اس حصہ مضمون کو بھی نہ صرف مردوں نے بلکہ عورتوں نے بھی نہایت شوق اور خوشی سے سنا ایک گھنٹہ بعد لیکچر ختم ہوا۔تو لوگوں نے اس گرم جوشی کے ساتھ اور اتنی دیر تک تالیاں بجائیں کہ پریذیڈنٹ ( سر تھیوڈر ماریسن) کو اپنے ریمارکس کے لئے چند منٹ انتظار کرنا پڑا۔پریذیڈنٹ نے کہا۔مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرالیا ہے میں اپنی طرف سے اور حاضرین کی طرف سے مضمون کی خوبی ترتیب خوبی