تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 389
تاریخ احمدیت جلد ۴ 381 خلافت ثانیہ دسواں سال کو ہوئی ہے اس لئے میں نے سوچا کہ اگر تہذیبی بہنوں کو اعتراض نہ ہو تو وہ ان میں سے کسی ایک مبلغ کا خرچ اپنے ذمہ لے لیں۔مگر اسی اثناء میں ہمارے علماء نے اعلان شائع کیا کہ احمدی فرقہ کے لوگ سب کا فر ہیں اور ان کا کفر مکانہ راجپوتوں کے کفر سے بھی زیادہ شدید ہے۔اس زمانہ میں علماء کا یہ کام مسلمان بنانا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو کافر بنانا ہے۔مجھے یقین ہے کہ دنیا میں ایک بھی ایسا مسلمان نہ ہو گا۔جس کے متعلق سب علماء دین بالاتفاق یہ کہہ سکیں کہ واقعی یہ ٹھیک مسلمان ہیں۔ہمارے علماء سے جسے چاہو کا فربنو الو۔وہابی کافر بدعتی کا فر رافضی کا فر خارجی کافر۔لیکن اگر ان سے چاہو کہ چند کافروں کو مسلمان بنادر - تو یہ کام ان سے نہیں ہو سکتا"۔اس کی تائید میں جناب عبد المجید صاحب سالک اپنی کتاب " سرگزشت " میں لکھتے ہیں کہ۔ملکانہ راجپوتوں میں انسداد ارتداد اور تبلیغ اسلام کا کام شروع ہوا۔بریلوی دیوبندی ، شیعہ احمدی لاہوری احمدی - میر نیرنگ کی جمعیتہ تبلیغ الاسلام کے مبلغ غرض ہر فرقے اور ہر جماعت کے کارکن آگرہ اور نواحی علاقوں میں پھیل گئے۔چاہئے تو یہ تھا کہ مل جل کر اسلام کی خدمت کرتے لیکن ان جماعتوں نے وہاں آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔صرف احمدی مبلغین تو کچھ کام کرتے تھے اور باقی تمام فرقوں کے لوگ یا آپس میں مصروف پیکار تھے یا احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے شائع کرتے تھے " 14 اسی کے اکتفا نہ کرتے ہوئے جمعیتہ العلماء دہلی کی طرف سے احمدیوں کو دھمکی " جمعیتہ العلماء" دہلی نے احمدیوں کو تباہ کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔چنانچہ شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کا چشم دید بیان ہے کہ ” جب میں ملکانہ میں کام کرتا تھا تو چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے مجھے حکم دیا کہ دہلی جائیں اور مولوی کفایت اللہ صاحب اور مولوی احمد سعید صاحب وغیرہ جمعیتہ العلماء کے علماء سے ملیں۔اور اطلاع دیں کہ آپ کے فلاں مبلغ ملکانوں کو تبلیغ اسلام کرنے کی بجائے ان کو ہمارے خلاف بہکا رہا ہے۔میں ان کی خدمت میں پہنچا تو غالبا مولوی احمد سعید صاحب نے میری عرض داشت پر جو کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ میں مدد کرتا ہوں۔مگر میں ایک بات سنائے دیتا ہوں کہ جب یہ ملکانہ کا قضیہ ختم ہو جائے گا تو پھر ہم آپ کی جماعت کا مقابلہ کریں گے اور پیس کر رکھ دیں گے۔یہ کہہ کر ساتھ ایک آدمی کر دیا کہ فلاں مولوی صاحب کے پاس لے جائیں یہ مولوی صاحب جو نوجوان تھے اور مولوی کفایت اللہ صاحب اور مولوی احمد سعید صاحب کے ماتحت کام کرتے تھے۔مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگ کیسے کام کر رہے ہیں۔ہم اپنے آدمیوں کو تنخواہیں ہی نہیں سفر خرچ بھی دیتے ہیں اور