تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 282 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 282

274 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال ہیں۔اور اپنی آواز کو خوب دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔مغربی افریقہ میں ان کے متعدد مدارس ہیں جو مغربی خطوط پر چلائے جاتے ہیں۔ان کے اخبارات بھی ہیں۔گولڈ کوسٹ (غانا) مشن II اوپر بتایا جاچکا ہے کہ الحاج حکیم فضل الرحمان صاحب ۱۳ مئی ۱۹۲۲ء کو انچارج مشن کی حیثیت میں یہاں پہنچے آپ آخر تمبر ۱۹۲۹ء تک گولڈ کوسٹ میں تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف عمل رہے۔محترم حکیم صاحب کے عہد میں مشن کو بہت فروغ ہوا۔سالٹ پانڈ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول جاری کیا۔اور جماعت کے امراء سے چندہ خاص کر کے سکول کی عمارت تعمیر کی اپریل ۱۹۲۸ء میں شہر کماسی میں آپ کا غیر احمدیوں سے مناظرہ ہوا۔جس میں اللہ تعالٰی نے احمدیت کو نمایاں فتح بخشی۔اس مناظرہ میں حکومت کے اعلیٰ افسروں کے علاوہ پراونشل کمشنر بھی موجود تھے۔حکیم صاحب ابھی گولڈ کوسٹ ہی میں تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم پر مولوی نذیر احمد (علی) صاحب (ابن حضرت بابو فقیر علی صاحب اسٹیشن ماسٹر) ۲۲ فروری ۱۹۲۸ء کو قادیان سے گولڈ کوسٹ روانہ ہوئے۔اور وہاں کچھ عرصہ حکیم صاحب کا ہاتھ بٹانے کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۲۹ء سے مشن کے انچارج مقرر کئے گئے۔اور کامیاب جرنیل ثابت ہوئے۔مولوی نذیر احمد علی صاحب کے زمانہ میں گولڈ کوسٹ (حال غانا) کی جماعت نے خوب ترقی کی کو افیا ٹا- اسیام - کیپ مقامات میں نئے سکول کھلے اور متعدد نئی جماعتیں قائم ہو ئیں۔مئی ۱۹۳۳ء میں آپ واپس تشریف لے آئے۔اور مشن کا کام الحاج حکیم فضل الرحمان صاحب نے انجام دینا شروع کر دیا - D آپ کے دور میں یہاں مشن ہاؤس بھی تعمیر ہو گیا۔۲ فروری ۱۹۳۶ء کو مولوی نذیر احمد علی صاحب اور مولوی نذیر احمد صاحب مبشر سیالکوئی مولوی فاضل گولڈ کوسٹ روانہ ہوئے۔اور ۲۳ اپریل ۱۹۳۶ء کو گولڈ کوسٹ پہنچے۔اور یکم مئی ۱۹۳۶ء کو اس مشن کا چارج لیا۔اور کماسی میں جو اشانی کا مرکز ہے احمدیہ پرائمری سکول کی بنیاد رکھی۔اکتوبر ۱۹۳۷ء میں مولوی نذیر احمد علی صاحب حضرت خلیفہ ثانی کے ارشاد کے تحت سیرالیون میں نیا دار التبلیغ کھولنے کے لئے تشریف لے گئے اور گولڈ کوسٹ مشن مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کی امارت میں جلد جلد ترقیات کی منزلیں طے کرنے لگا اور خدا کے فضل سے یہ آپ ہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج غانا کی جماعت ممالک بیرون پاکستان کی عظیم ترین جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جس میں اڑھائی سو سے زیادہ جماعتیں ہیں۔پونے آٹھ لاکھ روپیہ کا بجٹ ہے ایک سو باسٹھ کے قریب مساجد اور سولہ کے قریب سکول قائم ہیں۔اور میں کے لگ بھگ (مرکزی مبلغین کے علاوہ) مقامی مبلغ کام کر رہے ہیں جن کے لئے الگ الگ