تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 257
تاریخ احمدیت جلد ۴ 2490 خلافت عثمانیہ کا ساتواں سال تیسرا باب (فصل اول) دار التبلیغ امریکہ کی بنیاد سے لے کر لجنہ اماء اللہ" کے قیام تک خلافت ثانیہ کا ساتواں سال جنوری ۱۹۲۰ء تا دسمبر ۱۹۲۰ء بمطابق ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ تاربیع الآخر ۱۳۳۹ھ ) دار التبلیغ امریکہ کی بنیاد ۱۹۲۰ء کے سال کو ایک نمایاں خصوصیت یہ حاصل ہے کہ اس میں سلسلہ احمدیہ کی باقاعدہ تبلیغی مہم پرانی دنیا کی حدود سے نکل کرنتی دنیا میں جا پہنچی اور امریکہ میں مستقل مرکز کی بنیاد پڑی۔یہ وہی امریکہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ڈاکٹر الیگزنڈر ڈوئی فالج زدہ ہو کر کچھ دنوں کے بعد 9 مارچ ۱۹۰۷ء کو بڑی حسرت و اندوہ کی حالت میں ختم ہو گیا۔ڈوئی اس عداوت و دشمنی کا بد ترین نمونہ تھا۔جو امریکن پادریوں کو اسلام اور بانی اسلام حضرت رسول خد امحمد مصطفی ﷺ سے رہی ہے۔در اصل امریکہ کے پادری گذشتہ صدی سے تمام عالم اسلام حتی کہ مرکز اسلام مکہ معظمہ پر بھی صلیب کے جھنڈے لہرانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔چنانچہ مسٹر جان ہنری بیروز (John Henry Berose) نے گزشتہ صدی کے نصف آخر میں کہا تھا کہ صلیب کی چمکار آن ایک طرف لبنان پر ضو افگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمک سے جگمگا رہا ہے یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا جب قاہرہ دمشق اور تہران کے شہر خداوند یسوع کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔حتی کہ صلیب کی چکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہو گا