تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 193
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 185 خلافت ثانیه کادو سرا سال اس نادر تفسیر نے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ یورپ کے حلقوں میں بھی بڑی ہلچل پیدا کر دی تھی حتی کہ امریکہ کے مسیحی اخبار "مسلم ورلڈ " نے لکھا۔احمدیت کے لٹریچر کا مطالعہ ہی اس بات کا اندازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ مذاہب کی موجودہ جنگ میں اسلام اور مسیحیت میں سے کون غالب آنے والا ہے۔ایسٹ اینڈ ویسٹ " (لندن) نے لکھا۔یہ قرآن مجید کا بے نظیر ترجمہ ہے۔جس سے مطالب قرآن پر خوب روشنی پڑتی ہے۔" سول اینڈ ملٹری گزٹ " لاہور نے یہ رائے دی کہ اس ترجمہ سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ قرآن سرا سر مربوط کلام ہے جس کی ہر آیت اپنی جگہ ٹھیک نکے ہوئے موتی کی طرح ہے۔ہندوستان کے مشہور فاضل ڈاکٹر عبد الله المامون السر وردی ایم۔اے نے یہ تبصرہ کیا کہ یہ ترجمہ کتاب مجید کا ایک شاندار ایڈیشن ہے تشریحی نوٹ سبق آموز اور روشنی پیدا کرنے والے ہیں یہ نئی علمی کوشش اس امر کی مستحق ہے کہ مذاہب عالم کا غیر جانبداری سے مطالعہ کرنے والے تمام لوگ اس کی اعانت و تائید کریں ۲۱۰ محلہ دار الفضل قادیان کے شمال مشرق میں احمد آباد اور کھارا کے درمیان آخر ۱۹۱۵ء میں ایک نیا محلہ آباد ہونا شروع ہوا۔جس کا نام " دار الفضل " رکھا گیا۔یہ محله ای سرزمین پر آباد ہوا جو انگریزی پارہ کے اخراجات مہیا کرنے کے لئے فروخت کی گئی تھی۔اس محلہ میں ابتداء حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بسمل - حضرت ماسٹر عبد الرحمن صاحب (مہر سنگھ ) حضرت میر قاسم علی صاحب اور حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری و غیرہ بزرگوں نے مکانات بنائے تھے۔سرزمین سندھ سے متعلق ایک اہم خبر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی نے ۱۹۱۵ء میں خواب میں دیکھا کہ آپ نہر میں بہہ رہے ہیں اور دعا کر رہے ہیں کہ یا اللہ سندھ میں تو پیر لگ جائیں ia - یہ خواب ایک عرصہ کے بعد غیر معمولی نشان بن کر پوری ہوئی۔اور اب اس علاقہ میں حضور اور حضور کے خاندان اور سلسلہ کی ہزاروں ایکٹر کی جائداد موجود ہے۔اور محمد آباد - احمد آباد - محمود آباد - ناصر آباد اسٹیٹس قائم ہیں حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عہد کے دو سرے سالانہ جلسہ انوار خلافت" دسمبر ۱۹۱۵ء کی مختلف تاریخوں میں نہایت حقیقت نما اور معلومات افزا چار تقریر میں فرمائیں۔حضور نے ان تقریروں میں مسئلہ اسمہ احمد "" مسئلہ نبوت وغیرہ پر بڑی شرح و سط سے کلام فرمایا ہے اور کتب معتبرہ کی رو سے عبد اللہ بن سبا کے فتنہ کی پوری تاریخ بیان فرما دینے کے بعد جماعت کے دوستوں کو یہ دل ہلا دینے والی وصیت فرمائی کہ۔آپ لوگ ان باتوں کو سمجھ کر ہوشیار ہو جائیں۔اور تیار رہیں فتنے ہوں گے اور بڑے سخت