تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 117
تاریخ احمدیت - جلد ۴ تحریک قرار دینے لگے۔۲۷۰- الحکم ۱۴/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ، اپر چھپ چکا ہے۔109 ۲۷۱۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۳۹۹۳۹۸ ۲۷۲- احکم ۱۴/ مئی ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۰ کالم ۳۱۲ ۲۷ الحکم ۷۔۱۴ / جون ۱۹۱۱ء صفحہ ۷ اکالم ۳۔۷۴ تفسیر کبیر (سوره انبیاء) صفحه ۵۰۳ کالم ۲۷۵۔ملاحظہ ہو عید الازبان جلد ۱ صفحہ ۲۸۸-۲۹۸- ۲۷۶- شعید الا زبان جلد ۶ نمبر ۸ صفحه ۲۹۷ ۲۷۷ مفصل تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ ۳۹۹ میں۔۲۷۸- مکمل آمین کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ہے۔۱۴ / جولائی 1911 و صفحہ ہی کالم ۲۷۹۔ضمیمہ احکام مشموله الحکم ۱۴/۲۱ستمبر ۶۱۹۷۱ ۲۸۰ حمید الاذہان ۱۹۱۱ء تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۴۱۴ ۲۸- الحکم ۷ / اگست ۱۹۱۴ء صفحه ۹۷ ۲۸۳ الفضل ۹/ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۔۲۸۴- دیکھو تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۴۱۶-۴۴۱۴۴۲۲-۴۵۸- شیخ عبد القیوم صاحب چنیوٹی مقیم لائلپور کا بیان ہے کہ میری وادی صاحبہ بتاتی تھیں کہ جس سال حضور حج کے لئے تشریف لے گئے تھے ایک غیر احمد کی عورت نے ہمیں بتایا کہ تمہارے مرزا صاحب کے بیٹے کو ہم نے حج میں دیکھا ہے ان کے چہرہ پر نور برستا تھا۔۲۸۵- بدر یکم اگست ۱۹۱۲ ء - ۲۸۶- یہ مفصل حالات الحکم جوبلی نمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۵-۱۶ میں چھپ چکے ہیں۔۲۸۷ بدر ۱۳/ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۸ کالم - ۲۸۸ - ملا حظہ ہو الفضل ۱۴ - ۱۹۱۳ء۔۲۸۹- حیات قدی از حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی) حصہ چہارم صفحه ۲۷/۲۸ طبع اول مطبوعہ را ما آرٹ پریس امرتسر۔۲۹۰ شعید الا زبان جلد ۸ نمبر ۳-۰۵ ٩- الفضل ۳۰ / جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۳۔۲۹۲- اسکی تفصیل تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۴۹۹-۵۰۴-۵۲۲- ۲۹۳- الفضل ۷ ار د سمبر ۱۹۱۳ء صفحہ اکالم ۱- ۳۱/ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱- یہ تقریر پیغام صلح 11 جنوری ۱۹۱۴ء صفحہ ۴ میں شائع ہو گئی ) ۲۹۴۔تفصیل کے لئے دیکھئے تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۷ ۵۲-۵۲۸- ۲۹۵- تاریخ احمد جلد چهارم صفحه ۵۳۲ ٢٩٦ - الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۵ کالم ۳- ۲۹۷- آئینہ صداقت صفحہ ۱۷۹-۱۸۰) آپ کی ایک پرانی رویا بھی تھی کہ میں ایک گاڑی میں بیٹا یا ہر جارہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات پانے کی اطلاع ملی ہے) ۲۹۸- حقیقت اختلاف صفحه ۷۰ از مولوی محمد علی مرحوم امیرانجمن اشاعت اسلام لاہور مطبوعہ دین محمد سٹیم پریس لاہور۔۲۹۹- حقیقت اختلاف صفحه ۷۰ -۳۰۰ آئینه صداقت صفحه ۱۸۰-۱۹۰- اس فقرہ سے یہ حقیقت کھل گئی کہ جناب مولوی محمد علی صاحب کو مسئلہ خلافت سے انکار صرف اور صرف اس لئے تھا کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے۔)