تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 90
تاریخ احمدیت جلد ۴ 82 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت ابراہیم اور موسی حضرت مسیح پر ایمان لا چکے تھے۔میں نے کہا وہ ایمان کس طرح لاچکے تھے وہ تو حضرت مسیح سے پہلے ہوئے ہیں۔اگر حضرت مسیح پر ان کے ایمان لانے کا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہو تو اسے پیش کریں۔اس نے کہا داؤد نے پیشگوئی کی تھی کہ اس کی اولاد سے ایک ایسا شخص ہو گا جو خدا کا بیٹا ہو گا۔میں نے کہا حضرت مسیح تو داؤد کی اولاد میں سے تھے ہی نہیں۔الخ ایک سندھی مولوی صاحب کی ملاقات حضور ایدہ اللہ تعالی ایک سندھی مولوی ہیں۔صاحب کی ملاقات کا واقعہ ان الفاظ میں لکھتے ایک سندھ کے مولوی صاحب غالبا مولانا عبید اللہ صاحب سندھی جو اکثر قادیان آتے رہتے تھے استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول ان کو ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے۔۔۔۔۔آيت الو كان فيهما الهة الا الله لفسد تا الخ سورہ انبیاء) آپ کے سامنے رکھی کہ آپ اس کو حل کر دیں۔۔۔۔۔استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول نے ان کو کئی جواب دیے مگر ان کی تسلی نہ ہوئی جب بحث لمبی ہو گئی تو استاذی المکرم حضرت نور الدین صاحب نے بڑے جوش سے کہا کہ آپ مجھے کہتے ہیں کہ میں جواب نہیں دے سکتا۔ذرا اس بچہ سے جو میرا شاگرد ہے بحث کر کے دیکھ لیں۔مولوی عبید اللہ صاحب کو معلوم تھا کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں۔۔۔۔۔استاذی المکرم کی بات سن کر کہنے لگے ان سے میں بحث نہیں کروں گا "۔۱۹۰۹ء میں آپ کے قلم سے شعید الاذہان میں مندرجہ تشخیذ الاذہان میں بلند پایہ مضامین ذیل مضامین شائع ہوئے۔قمری نشان" (زلزلہ در گور نظامی نگند کا ظہور ) " تازہ نشان" (سلطان روم کی سلطنت کے متعلق) " ایک عجیب واقعہ "۔" مسیحی نبیہ" "عورتوں سے پردہ " " تبلیغ اسلام " "ماہ رمضان"۔" جزاء الاحسان"- "دین حق"۔"نجات" بجواب لیکچرپادری میکملن ) ۱۹۰۹ء کی دوسری خدمات ا لاہور کی احمدیہ انجمن " مجمع الاخوان " کے سالانہ جلسہ پر لیکچر دیا ۲۴۹ ۱۲۵۰ - پادری جو الا سنگھ کے اعتراضات کے جواب میں آپ کا لاہور میں لیکچر ہوا۔ہم اور ہمارے فرائض" کے عنوان پر آپ نے یکم اکتوبر ۱۹۰۹ء کو " شعید الاذہان" کے سہ ماہی اجلاس میں ایک پر جوش تقریر فرمائی۔۲۵۱