تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 624
تاریخ احمدیت جلد ۳ 612 خلافت اولی پر ایک طائرانہ نظر ان طوفانوں میں جماعت احمدیہ آپ کی قیادت میں روز بروز بڑھتی چلی گئی اور یہ فتنے نظام خلافت کو اپنی آہنی زنجیروں سے متزلزل کرنے میں یکسرنا کام رہے۔غرضکہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کا کچھ سالہ زمانہ خلافت اپنوں اور بیگانوں کی مزاحمتوں اور مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود ایسی شاندار فتوحات اور عظیم الشان کارناموں سے بھرا ہوا ہے کہ سچ بچ خلافت صدیقی کا روح پرور نظارہ چودہ سو سال بعد پھر سے آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔حتی کہ آپ کی خلافت کو دل سے تسلیم نہ کرنے والے بھی پکار اٹھے کہ ہم نے ابو بکر صدیق کو نور الدین کی شکل میں دیکھ لیا ہے۔ہمیں ہے فخر نور الدین اور محمود احمد پر دوبارہ کر دیئے حق نے ابوبکر و عمر پیدا اللهم صل على محمد و على آل محمد و علی خلفاء محمد و بارک وسلم انک مید مجید و اخر دعونا ان الحمد الله رب العالمين۔سید نا محمود کا گروپ فوٹو بمقام ہارس ہیتھ جاکھو۔شملہ (متعلقہ صفحہ ۶۰۹) کرسیوں پر (بائیں سے دائیں )۱-۲- ۳ میاں محمد عبد الرحمان خاں مرحوم کو میاں محمد عبد اللہ خاں مع اپنے والد نواب محمد علی خان تینوں صحابی (۴) حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد ( خلیفتہ المسیح الثانی) (۵) نواب سید محمد رضوی حیدر آبادی مرحوم ( صحابی) (۶) مولوی سید محمد سرور شاه صاحب (مدفون بهشتی مقبرہ صحابی) (۷) بابو محمد یوسف صدر جماعت احمد یہ شملہ مدفون بهشتی مقبره) (۸) خان صاحب منشی برکت علی مرحوم سیکرٹری جماعت شملہ ( صحابی) (۹) میاں محمد عبد الرحیم خاں خالد (صحابی) ابن حضرت نواب محمد علی خان مرحوم نیچے بیٹھے ہوئے (پہلی قطار ) (۱) (۲) منشی محمد افضل مرحوم (۳) بابو عبد الرحمان صاحب (۴) حضرت حافظ روشن علی صاحب ( صحابی - مدفون بهشتی مقبره ) (۵) ماسٹر نور محمد صاحب خسر جناب حافظ عبد السلام صاحب سابق وکیل اعلیٰ تحریک جدید (۶) خواجہ حفیظ اللہ مرحوم (۷) شیخ اللہ دین صاحب ماسٹر نور محمد صاحب کے سامنے حضرت مرزا عبد الحق صاحب بیٹھے ہیں۔(مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد سوم)