تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 604 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 604

تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 596 خلافت اوٹی کی نسبت آسمانی شہادتیں اٹھا رکھا ہے۔جس طرح بچوں کو مشک بناتے ہیں پھر میرے کان میں کہا کہ تو ہم کو محبوب ہے "۔فرمایا۔”میں نے سلطان عبد الحمید کو دیکھا کہ ایک جھولدار چارپائی پر میلی تو شک پڑی ہے اور وہ اس پر بیٹھار کن کی طرف منہ کر کے رو رہا ہے۔اور کپڑا چاروں طرف سے سمٹا جا رہا ہے۔اس کے ہاتھ میں ایک خالی گھڑا ہے میں نے چاہا کہ بھر دوں مگر بھرا نہیں گیا۔تعبیر اس کی یہ سمجھائی گئی کہ سلطان عبد الحمید کی سلطنت کے عمائد اچھے نہیں اور اس کا ملک کم ہوتا جا رہا ہے۔اور میں نے دعا کرنی چاہی مگر توفیق نہ دی گئی "۔19 فرمایا۔" میں اپنی جان و دل سے شہادت دیتا ہوں کہ اپنی آنکھ سے فرشتوں کو دیکھا ہے۔۔۔۔۔ان کی محبت و احسان کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور اپنے کانوں سے انہیں یہ کہتے سنا نحن اولیاء کم فی الحيرة الدنيا"۔۲۰ فرمایا۔” ایک ہمارا محسن تھاوہ مارا گیا۔مجھے اس حج سے ملنے کا موقع ملا جس نے تحقیقات کی تھی اس نے تایا۔۔۔کل اتنے آدمیوں کو پھانسی لگ جائے گی۔۔۔میں لیٹ گیا۔تو میں نے دیکھا کہ جن کے متعلق پھانسی کا حکم دیا گیا تھا وہ چارپائی پر بیٹھے ہیں اور کچھ سکھ مجھ کو دکھائے گئے جو زمین پر بیٹھے تھے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ یہ سب چھوٹ جائیں گے۔اور اس کے قاتل وہ سکھ ہیں جو سزائیں پائیں گے۔۔۔ٹھیک نو بجے جب کہ پھانسی کا مقررہ وقت تھا۔سیالکوٹ سے تار آگیا کہ اصل مجرم پکڑے گئے ہیں۔۔۔تحقیقات پر مقدمہ نئی طرز کا ہو گیا۔اور وہ رہا ہو گئے۔تب وہ حج کہنے لگا۔بڑا الیش چرج ہے۔تب اس نے پوچھا کہ اب کون سزا پائے گا۔میں نے کہا وہ سکھ جو ان مجرموں میں سرکاری وعدہ معافی پر بن لیا۔وہ بچ گیا۔اور باقی پھانسی پاگئے اس پر جج نے کہا کہ ایک تو بچ گیا۔میں نے کہا مجھے تو یہ نہیں دکھایا گیا کہ یہ بچے۔چنانچہ اس نے وہاں سے نکل کر خوشی میں شراب پی کر ایک لڑکی کو چھیڑا۔اس کے رشتہ داروں نے وہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا "۔۲۱ ۱۴ فروری ۱۹۱۴ء کو فرمایا۔" سورة (نجم) کا ابتداء بلکہ دور تک خود اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پڑھایا ہے"۔۲۲ - فرمایا - " مجھے تو خدا تعالیٰ نے آپ قرآن پڑھایا ہے۔اور میں نے بعض آیتوں کو خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالی سے پڑھا ہے۔II پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ اس سے نبی کریم ا کی زیارت ہو جائے گی۔چنانچہ آپ اسی رات زیارت آنحضرت ا سے مشرف ہو گئے۔-۲۴ فرمایا۔" شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے بھوک تھی میں سو گیا۔خواب میں پلاؤ اور زردہ کھالیا جب جاگا تو دیکھا پیٹ بھرا ہوا تھا۔میں نے خودان باتوں کا بڑا تجربہ کیا ہے "۔