تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 442 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 442

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 434 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب اخباروں اور رسالوں کے ایڈیٹر تھے۔۱۸۵۷ء میں بمقام نجیب آباد پیدا ہوئے۔۱۹۰۵ ء میں پہلی مرتبہ قادیان میں آئے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے دسمبر 1994ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں فارسی ٹیچر مقرر ہوئے۔۱۹۰۷ء میں تبلیغ اسلام کے لئے زندگی وقف کی۔۱۹۱۲ ء میں ” مرقاۃ الیقین " شائع کی پھر مئی ۱۹۱۴ء میں رخصت بلا تنخواہ پر ہمیشہ کے لئے قادیان سے لاہور چلے گئے یہاں عرصہ تک اخبار "پیغام صلح کی ایڈیٹری کرتے رہے۔پھر "زمیندار" کے ایڈیٹر ہو گئے۔دیال سنگھ کالج کے پروفیسر بھی ہوئے۔پھر وطن چلے گئے۔اور ایک رسالہ عبرت " جاری کیا اور سلسلہ سے بے تعلقی کی حالت میں ۱۲ / مئی ۱۹۳۸ء کو نجیب آباد میں انتقال کر گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون (ا حکم ۱۴/ نومبر ۱۹۱ ء صفحہ ۷-۸- رسالہ نقوش لاہور نمبر صفحہ ۹۳۲- رجسٹر نمبرے ریکارڈ صد را انجمن احمدیہ ۱۴- ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۷۳ ۹ مرقاة الیقین صفحه ۱۵۰۱۴ مقدمه) ۴۰ کتاب کا نام حضرت حافظ روشن علی صاحب نے تجویز فرمایا اور کتابت منشی کرم علی صاحب خوشنویس نے فرمائی۔(مرقاۃ الیقین صفحہ (۲۷) یہ حصہ اول تھا۔اکبر شاہ خان نے دوسرے حصہ کے لئے بھی شبانہ روز کوشش سے بہت سا مواد فراہم کر لیا تھا اور ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے نے اس کے لئے ان کو مناسب حدید کی پیشکش بھی کی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔اسی اثناء میں ان کی وفات ہو گئی۔ملک صاحب نے ملک بشیر علی صاحب (حال منڈی بہاء الدین) کو مسودات کی تلاش میں نجیب آباد بھیجا۔لیکن چنداں کا میابی نہ ہوئی۔المرقاۃ الیقین " کے کئی ایڈیشن آج تک چھپ چکے ہیں پہلا ایڈیشن ۱۹۱۳ء میں چھپا اس کے بعد احمد یہ المجمن اشاعت اسلام لاہور اور الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ نے شائع کیا۔انجمن اشاعت اسلام نے اس کی اشاعت پر کچھ تصرف کر کے حضرت کے شجرہ نسب کے ابتدائی الفاظ جو ہد ر ۲۸/ مارچ ۱۹۱۲ء سے ماخود تھے حذف کر دئیے۔کیونکہ ان میں لکھا تھا۔" آج سے تیرہ صدیاں قبل حضرت عمر خلافت نبوی کے مالک ہوئے تھے آج ان کے ایک بیٹے کو خدا تعالٰی نے ایک نبی کا خلیفہ اول بنا دیا ہے"۔(مرقاۃ الیقین پہلا ایڈیشن صفحہ ۱۶) مرقاۃ الیقین " کاوہ حصہ جو آپ کی رقم فرمودہ سوانح پر مشتمل ہے "حیات نور الدین " کے نام سے شائع شدہ ہے اس کے آخر میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے قلم سے آپ کی قادیان کی زندگی کے مختصر حالات بھی درج ہیں۔۲ ریویو آف ریلیم اردو ۱۹۱۴ء صفحه ۷۲۰۴۹ ۲۳۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مجدد اعظم حصہ سوم میں لکھتے ہیں۔اور کنگ مشن بھی کسی تیار کردہ اسکیم کا نتیجہ نہ تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک مقدمہ میں وکالت کا کام سر انجام دینے کے لئے انگلستان جانا پڑا۔(صفحہ ۳۲۷)۔۴۴- پیغام صلح جلد نمبر صفحه ۳ کالم ۴۵ بدر ۲۰۲۰/ نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴ کالم الحکم ۱۳/ نومبر ۱۹۱۳ء صلح - الف ن ۴- پدر ۳۱ / اکتوبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳ کالم -۳- ڈاکٹر ن شتر ۱۸۳۲ء میں ہنگری میں پیدا ہوئے آٹھ سال کی عمر میں قسطنطنیہ میں عربی اور ترکی سیکھنی شروع کی۔نومبر ۱۸۷۴ء میں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل نے عرصہ دراز تک اسلامی ملکوں کی سیاحت کی اور اسی دوران میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام عبد الرشید سیاح رکھا اور دو جلدوں میں تاریخ اسلام لکھی ۱۸۸۶ ء میں وہ لا ہور سے چلے گئے مسجد دو کنگ انسی کی یادگار ہے ۲۲/ اپریل ۱۸۹۹ء میں جرمنی میں فوت ہوئے۔( " نقوش لاہور نمبر صفحہ ۹۴۲) مجدد اعظم حصہ سوم صفحہ ۳۲۸- پیغام صلح ۷ / جون ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم - احمد کی جنتری ۱۹۲۱ء صفحہ ۲۳ مرتبه من منظور الی صاحب چودھری فتح محمد صاحب سیال مسلم مشنری انگلستان کا بیان الفضل یکم جنوری ۱۹۵۷ء صفحہ ۶ کالم ۴ ۵۰ - مجد دا هم جلد سوم صفحه ۳۲۸ ۵- پیغام صلح یکم مارچ ۱۹۱۴ء صفحه اکالم ۲ ۵۲- لارڈ ہیڈلے کے اپنے بیان سے ظاہر ہے کہ ان کے قبول اسلام میں خواجہ صاحب کی تبلیغ کا کچھ اثر نہیں وہ مدتوں سے اسلامی عقیدہ پر قائم تھے چنانچہ لکھتے ہیں۔" میرے موجودہ اعتقادات میری کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیش کا نتیجہ ہیں میرے دوست خواجہ کمال الدین صاحب نے ذرہ بھر کوشش مجھے اپنے زیر اثر لانے کی نہیں کی۔(پیغام صلح ۱۶ / د سمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۳ کالم ۳ یہ رہی