تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 396 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 396

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 388 الجمن انصار اللہ کا قیام -۲۴- رساله نظام المشائخ ربیع الثانی ۱۳۳۰ھ جلد نمبر ۴ صفحه به مکمل مضمون الحلم ۱۴ مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ ، اپر بھی شائع ہو گیا تھا۔۲۵ یاد رہے کہ الہ آباد کانفرنس میں خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی کہا تھا اس فرقہ اور دیگر فرقہ ہائے اسلام میں اصولاً کوئی اختلاف نہیں صرف ایک امر میں اختلاف ہے ہمارے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک پیشگوئی کی ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام کی تجدید کے لئے ایک مسیح موعود آئے گا اور ہم احمدیوں نے اس پیشگوئی کا مصداق احمد یہ فرقہ کے مقدس پانی کے وجود مسعود کو قبول کیا ہے "۔(بدر ۲/ فروری 19ء صفحہ ۵ کالم ) ۲۶- بدر ۱۳ مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ اکالم ۲ ایضا الحکم ۲۸-۱۲۱ اگست ۱۹۱۷ء صفحه ۸ کالم ) ۲۷- بدر ۹ / مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ کالم ۲-۳ اینا الحلم ۱۲۸ اپریل ۱۹۷ء صفحہ ۱۰ کالم ۳ ۲۸- حیات شیلی صفحه ۵۳۰-۴۳۴ از مولانا سید سلیمان ندوی ۲۹- الحلم ۱۴ مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ | کالم ۳۰ سالانہ رپورٹ صدرانجمن احمد یہ ۱۲-۱۹۱۱ء صفحہ ۸۱ ۳۱۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو موج کوثر " صفحہ ۱۳۸ متحمید الا زبان ایریل ۱۹۱۸ء صفحه ۱۳۱-۱۲۲ ۳۳- الحکم ۲۸-۲۱ / اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۷ کالم " بعنوان "خواجہ صاحب اور غیر احمدی" یہاں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی کے قلم سے اس مسئلہ کی وضاحت میں ایک اہم اقتباس درج کرنا ضروری ہے۔فرماتے ہیں ”ہماری طرف سے تو شروع میں جب یہ سوال اٹھا خواجہ کمال الدین صاحب کے لیکچروں اور مضامین کی وجہ سے اٹھایا گیا ورنہ ہمیں اس سوال کے اٹھانے کی کیا ضرورت تھی اب غیر مبایعین کو کبھی کبھی یہ سمجھ کر یہ سوال پیدا کر دینے سے انہیں کامیابی ہوگی اور لوگ ہم سے متنفر ہو جائیں گے گدگدی سی اٹھتی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب ان امور پر بحث ہوگی تو لوگ ان سے ناراض ہو جائیں گے مگر پھر بھی بیعت کرنے کے لئے جب لوگ آتے ہیں ہمارے پاس ہی آتے ہیں لیکن میں پھر ایک دفعہ اعلان کر دیتا ہوں کہ ہم کفر کے وہ معنے نہیں سمجھتے جو وہ سمجھے بیٹھے ہیں۔ہم کافر جہنمی کسی کو نہیں کہتے اور نہ یہ کہتے ہیں۔کہ ہر کا فرد و زخ میں جائے گا۔ہمارے نزدیک کفر کا اطلاق ایک خاص حد کے بعد ہوتا ہے جب کوئی ہم اسلام کو اپنا ذ ہب قرار دیتا اور قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنے کو اپنا دستور العمل سمجھتا ہے اس وقت مسلمان کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور حقیقی معنوں میں وہ مسلمان اس وقت ہوتا ہے جب کامل طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل کرتا ہے لیکن اگر وہ اسلام کے اصول میں سے کسی اصل کا انکار کر دیتا ہے تو گودہ مسلمان کہلاتا ہے مگر حقیقی معنوں میں وہ مسلم نہیں رہتا۔(الفضل یکم مئی ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم ۳۴۶ ท اس تشریح سے صاف کھل گیا کہ احمدی علم کلام اور احمدی لٹریچر میں جہاں دوسروں کے لئے کافر کالفظ استعمال ہوا ہے وہ اسلامی ریاست کے آئین دوستور کی اصطلاح کے طور پر نہیں حقیقت اسلام کی روشنی میں ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک بعض متشدد غیر از جماعت حلقے جماعت احمدیہ کو دستوری و آئینی اصطلاح کے مطابق بھی غیر مسلم قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں مگر احمدی جماعت نے ان کے لئے بھی غیر احمدی " کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔غیر مسلم " کبھی نہیں کہا۔اگر آئینی و دستوری اعتبار سے "کافر" کہنے کے معنے اسلامی اسٹیٹ میں غیر مسلم قرار دیے جانے کے ہوتے تو جماعت احمد یہ کبھی تو ہندوؤں، سکھوں یہودیوں وغیرہ کو غیر احمدی" کے نام سے اور غیر احمدیوں کو غیر مسلم" کے نام سے یاد کرلیتی۔مگر جماعت کی مستند تاریخ میں اس کی کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔پس یہ امتیاز بتاتا ہے۔کہ کفر کا لفظ محض "حقیقی اسلام" کے مقابل پر ہے۔اصطلاح ریاست کے لحاظ سے نہیں!! ۳۵- الحکم ۷ / مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۲ کالم ۲-۳ ۳- الحکم ۲۸/ اپریل ۱۹۱۱ء صفحہ ۵ کالم ۳ ۳۷ کتاب مجاہد کبیر صفحہ ۱۰۲ پر لکھا ہے۔کہ "مولانانور الدین صاحب نے بستر علالت پر بہت سے لوگوں کے سامنے یہ اعلان فرمایا کہ مسئلہ کفر و اسلام کو میاں محمود احمد صاحب نے نہیں سمجھا۔مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب مولانا شیر علی صاحب اور نواب محمد علی