تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 368 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 368

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 360 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر ۱۲۲- الحکم ۱۴ فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۴ کالم ہو ۲۳۴ ۱۳۳- الحکم ۱۴/ مئی ۱۹۱۱ء صفحہ ۹ کالم ۳ ۱۲۴- الحکم ۱۴-۷ / جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲ کالم ۳ ۱۳۵ بدر ۲/ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۶ کالم ۳ الفضل ۱۰/ نومبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۴ کالم ۴ ۱۲۷- اخبار الحلم ۲۱ مارچ ۱۹۱۲ء صفحہ 4 کالم پر لکھا ہے۔یہ تو سب کو معلوم ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح اید والله بنصرہ العزیز نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو امام مقرر کیا ہوا ہے۔چنانچہ پانچوں نمازوں کی امامت آپ کرتے ہیں اور جمعہ کا خطبہ اور نماز بھی آپ پڑھاتے ہیں "۔۱۲۸ الفضل ۱۹/ جنوری ۱۹۴۰ء صفحه ۷-۸ ۲۹ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی صوفیاء کے مشہور چشتی سلسلہ کے اکابر اولیاء میں سے گذرے ہیں۔آپ ۱۸۴ء بمطابق اے۔۷ ۷ اء میں پیدا ہوئے اور صفر ۱۲۶۷ھ مطابق دسمبر ۱۸۵۰ ء واصل بحق ہوئے۔(مشاہیر اسلام حصہ اول صفحہ ۹۵۰۸۵)۔آپ نے اپنی ایک قلمی بیاض میں (جو آپ کے خاندان میں محفوظ ہے) اپنے دست مبارک سے حضرت خواجہ صاحب کی عالم رویاء میں ملاقات کی تفصیل لکھی ہے۔۱۶ / دسمبر ۱۹۰۸ ء شب چہار شنبہ رویاء میں اول میں نے خواجہ اللہ بخش تونسوی رحمتہ اللہ کو دیکھا پھر ایک مکان میں گیا جہاں تخت ہے اور اس پر غالباً قالین ہیں۔اس پر حضرت خواجہ سلیمان رحمتہ اللہ تونسوی ہیں اور بڑا فرنل پہنا ہوا ہے) اور ریش مبارک گھنی (ہے)؟ مگر حد سے متجاوز نہیں۔سر پر ٹوپی ہے خواجہ اللہ بخش نیچے ہیں ان کی اولاد میں سے ایک مرد لڑ کا تخت کے دوسری طرف تخت کے نیچے آپ کے سامنے ہے مجھے ارشاد فرمایا۔اوپر آجاؤ میں دائیں طرف کے قریب حاضر ہوا خواجہ اللہ بخش رحمتہ اللہ نے کوئی بات دریافت فرمائی ہے۔۔۔اس وقت آپ کے تمام بدن سے ایک آواز جوش کی نکلی۔جیسے میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھ پر توجہ ڈال رہے ہیں۔والحمد لله رب العلمین" ۱۳ بدر ۲۷/ جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۹ کالم ۳ ۱۳۲- تاریخ مشائخ چشت مولفہ خلیق احمد نظامی ایم۔اے استاد شعبہ تاریخ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں لکھا ہے۔۱۵-۱۶ برس کی عمر میں خواجہ محمد سلیمان خواجہ ماروی سے بیعت ہوئے تھے شیخ صاحب کی صحبت کا فیض کل ۶ سال تک اٹھایا خود ایک جگہ فرماتے ہیں۔مار ا صحبت ظاہری حضرت قبلہ عالم شش سال یا کم بود( نافع السالکین صفحه ۱۴۰-۱۴۱) ہمیں حضرت قبلہ عالم کی ظاہری صحبت ۶ سال یا کچھ کم حاصل رہی ہے۔۲۱-۲۲ سال کی عمر میں پیرو مرشد نے خلافت عطا فرمائی " (صفحہ 19) ۱۳۳- حضرت خلیفہ اول کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔باوجود حامل وصیت ہونے کے خلافت ثانیہ کے قیام پر ان کو ٹھوکر لگی اور دہریت کا شکار ہو گئے۔سالہا سال تک علی گڑھ کالج میں پروفیسر پھر پشاور کالج کے پرنسپل رہے بعد ازاں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہو کر ریٹائرڈ ہوئے اب سیالکوٹ (وڈ گرین سٹریٹ) میں رہائش پذیر ہیں اور فالج میں مبتلا ہیں۔۱۳۴- بدر ۲۶/ جنوری 1911ء صفحہ اکالم ۱۳۵- "حقیقت اختلاف " صفحہ ۶۹ ۱۳۶- "حیات نور الدین صفحه ۱۶۱ ۱۳۷- احکم ۲۱ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۰ کالم ۲ ۱۳۸ - الفضل ۴۰۶ / اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ اکالم ۳ ١٣٩- الفصل ۱۴ اگست ۱۹۳۷ء صفحہ ۴ کالم ۴ مضمون میاں عبد الوہاب صاحب عمرا ۳۰ فرقان ( قادیان) مئی ۱۹۴۵ء صفحه ۲۵ ۱۴۱ روایت قریشی امیر احمد صاحب بھیروی۔۱۴۲- الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۱ کالم ۱ الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۱ کالم ٣٣