تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 635
تاریخ احمد بیت۔جلد ۲ حلیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیه چھوٹے چھوٹے کمروں کا سلسلہ تھا دو تین یا شاید چار ہوں ان میں حضرت بڑے بھائی صاحب اور منجھلے بھائی صاحب وغیرہ رہتے تھے۔ان کے سامنے مجھے بھی تھے ایک دو نقشہ میں جو کمرہ ہے جس میں چارپائی آپ کی وقت و صال دکھائی ہے اس کے ساتھ صحن میں آپ رات کو سوتے تھے اور کمرے کے قریب کے رخ پلنگ تھا جس وقت آپ علیل ہوئے۔صحن سے ہی راستہ جاتا تھا جہاں سے آپ نیچے نماز کو تشریف لے جاتے تھے اسی راستہ کے دائیں ہاتھ پر کمرے تھے جن میں حضرت خلیفہ اول اور پیر منظور محمد صاحب رہتے تھے۔- اگر کوئی مجھے اس گھر میں اسی رخ لے جائے اور وہ صحن وہ کمرے اسی حالت میں ہوں تو ایک ایک جگہ ٹھیک بتا سکتی ہوں۔آپ صحن میں بستر پر بیٹھ کر آخری شام دیر تک مضمون لکھتے رہے تھے۔آپ کے چہرہ مبارک پر ایک خاص جوش اور ایک خاص سرخی تھی اور قلم معمول سے زیادہ تر تیز تھا مجھے اس وقت آپ کے بیٹھ کر اس انہماک اور تیزی سے لکھنے پر اپنا خواب یاد آیا تھا۔جو میں آپ کو سنا چکی تھی اور و ہم آیا جس کو بار بار دل سے دور کرنے کی کوشش کی تھی یہی خیال آتا تھا کہ اس خواب میں آپ اسی طرح بستر پر بیٹھے اسی رنگ میں لکھ رہے تھے۔میں نے لاہور آنے سے کچھ عرصہ ہی پہلے خواب دیکھا تھا کہ میں نیچے اپنے صحن میں ہوں اور گول کمرہ کی طرف جاتی ہوں تو وہاں بہت لوگ ہیں جیسے کوئی خاص مجلس ہو مولوی عبد الکریم صاحب دروازے کے پاس آئے اور مجھے کہا بی بی جاؤ ابا سے کہو کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ تشریف لے آئے ہیں آپ کو بلاتے ہیں میں او پر گئی اور دیکھا کہ پلنگ پر بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت تیزی سے لکھ رہے ہیں اور ایک خاص کیفیت آپ کے چہرہ پر ہے پر نور اور پر جوش میں نے کہا کہ ابا مولوی عبد الکریم کہتے ہیں رسول کریم صحابہ کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔آپ نے لکھتے لکھتے نظر اٹھائی اور مجھے کہا کہ جاؤ کہ یہ مضمون ختم ہوا اور میں آیا " ٹھیک یہی الفاظ تھے اور وہی نظارا میری آنکھوں میں اس آخری شام کو پھر گیا۔بس اب زیادہ لکھا نہیں جارہا جو ہو سکا لکھ دوں گی یا جو کچھ مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول کے متعلق زبانی بتادوں گی انشاء اللہ ضرور فقط مبارکه