تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 571
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۷ پدر ۲۴/ مئی ۱۹۰۸ء صفحه ۴ کالم نمبر ۲-۳ ۲۸ الحکم ۱۴ / جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ نمبرا -۲ مفصل تقریر کے لئے ملاحظہ ہو محکم ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء ۵۳۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری مقرن ہو را ۳۰- حیات قدسی رجسٹر سوم (غیر مطبوعه) صفحه ۷۰۵ از حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ۳۱ روایت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب پٹیالوی الحکم ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲ کالم نمبر ۲ ۳۳ پد را ارجون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰ کالم نمبر ۲ ۳۴ یه خط حضور کی وفات کے بعد شائع ہوا ۳۵ اس کا ذکر اگلے صفحہ پر آ رہا ہے ۳۶- بدر / جون ۱۹۰۸ء صفحہ سے کالم نمبر ۲ بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۲ - ۴۳ محکم ۱۸ ؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷-۸ ۳۷- حیات طیبہ (طبع دوم) صفحه ۴۵۶-۴۵۷ مولفہ جناب شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل مربی سلسله احمد یه وبد را ۲/ اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۳ روایت حضرت صاحب دین صاحب الحکم ۱۲۸ مئی ۱۹۳۹ء صفحه ۱۰ کالم نمبرا -۳۹- اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور اور دی انڈین پیٹریاٹ مدراس (۷ ستمبر ۱۹۰۸ء) نے پیغام صلح پر زبر دست خراج تحسین ادا کیا -۲۰ پیغام صلح طبع اول مطبوعہ تو کشور پریس لاہور ) صفحہ ۲۵-۲۶ ۴۱ پیغام صلح صفحه ۲۷ تا ۳۱ ۴۲- حضور کا یہ آخری مقدس پیغام عوام تک پہنچانے کے لئے ۲۱ / جون ۱۹۰۸ء کو پنجاب یونیورسٹی ہال لاہور میں رائے پر تول چندر صاحب حج چیف کورٹ کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں خواجہ کمال الدین صاحب نے "پیغام صلح کا مطبوعہ مضمون نهایت بلند آواز اور موثر لہجے میں پڑھا جسے حاضرین نے بہت سراہا۔اندرون ملک میں ”پیغام صلح کی مقبولیت اور پسندیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود ہندوؤں نے اس کی تائید کی اور اس پر عمدہ رائے کا اظہار کیا۔چنانچہ اخبار ہندو پیٹریٹ مدر اس نے لکھا وہ عظیم الشان طاقت اور اعلیٰ درجہ کی ہمدردی جو قادیان کے بزرگ کے اس آخری پیغام صلح سے ظاہر ہوتی ہے وہ یقیناً ایک خاص امتیاز کے ساتھ اسے ایک عظیم الشان انسان ثابت کرتی ہے۔۔۔ایسی ایل ایسے عظیم الشان انسان کی طرف سے یونہی ضائع نہیں جانی چاہیے اور ہر ایک محب وطن ہندوستانی کا مدعا ہونا چاہیے کہ وہ مجوزہ صلح کو عملی رنگ پہنانے کی کوشش کرے " (بحوالہ ریویو آف ریلیجنز " اردو ۱۹۰۸ء صفحه ۴۲۰-۴۴۴)۔ایک غیر مسلم دوست پی پی سنگھ نے لکھا کتاب پیغام صلح نے مجھ پر حیرت انگیز اثر کیا ہے۔میں اسلام کو اچھانہ سب خیال نہیں کرتا تھا۔اسلام کے متعلق مسلمانوں کا جو تھوڑا بہت لٹریچر میں نے مطالعہ کیا ہے اس سے بھی مجھے پر میں اثر ہوا تھا کہ اسلام جارحانہ منہ اب ہے میں اسے کبھی رواداری کا مذہب نہیں سمجھتا تھا جیسا کہ اب سمجھتا ہوں۔" (بحوالہ الفضل ۱۲۹ مارچ ۱۹۴۰ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۲) مسٹر پر ہم دست ڈیرہ دون نے لکھا " چالیس برس پیشتر یعنی اس وقت جب کہ مہاتما گاندھی ابھی ہندوستان کے افق سیاست پر نمودار نہ ہوئے تھے (حضرت) مرزا غلام احمد (علیہ السلام) نے ۱۸۹۱ء میں دعوئی مسیحیت فرما کر اپنی تجاویز رسالہ "پیغام صلح کی شکل میں ظاہر فرمائیں جن پر عمل کرنے سے ملک کی مختلف قوموں کے درمیان اتحاد و اتفاق اور محبت و مفاہمت پیدا ہوتی ہے۔آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ لوگوں میں رواداری اخوت اور محبت کی روح پیدا ہو۔بے شک آپ کی شخصیت لائق تحسین اور قابل قدر ہے کہ آپ کی نگاہ نے مستقبل بعید کے کثیف پردے میں سے دیکھا اور (صحیح راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی (اخبار فرنیٹر میل ۲۲/ دسمبر ۱۹۴۸ء (بحوالہ تحریک احمدیت صفحه ۱۲ - ۱۳ متولفہ جناب مولوی برکات احمد صاحب را جیکی (قادیان) ”پیغام صلح کو مغربی ممالک میں بھی خاص عظمت و وقعت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔چنانچہ مشہور انگریزی رساله ریویو آف دی ریویوز نے اس پر تبصرہ لکھا کہ "یہ پیغام ایک سنہری پل کا کام دے سکتا ہے جس پر سے ہو کر مسلمانان ہند قانون اساسی کے خیمہ میں پہنچ سکتے ہیں۔پیغام صلح شروع میں ہی تمام ہندوستانیوں کے ایک ہونے کو تسلیم کرتا ہے۔وہ بات جس سے اس کی خواہش کی سچائی ثابت ہوتی ہے کہ تمام