تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 438
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۵ قرب وصال سے متعلق الہامات قرب وصال سے متعلق الهامات و رویا۔”الوصیت کی تصنیف و اشاعت اور نظام خلافت کے قیام کی پیش گوئی اللہ تعالی نے ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر فرمایا کہ آخری اللہ زندگی کا یہی ہے جو اب گزر رہا ہے۔چنانچہ ۱۸/ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو حضور نے رویا میں دیکھا کہ ”ایک کو ری ٹنڈ میں ساتھ پانی مجھے دیا گیا ہے۔پانی صرف دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے لیکن بہت مصفی اور مقطر پانی ہے۔" اس کے ساتھ ہی الہام ہوا " آب زندگی " " پھر الہام ہوا " خدا کی طرف سے سب پر اداسی چھا گئی " دسمبر ۱۹۰۵ء میں صاف بتایا گیا قرب اجلک المقدر یعنی تیری اجل مقدر آگئی ہے) B بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔یہ ہو گا یہ ہو گا یہ ہو گا بعد اس کے تمہارا واقعہ ہو گا۔تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔دسمبر۷ ۱۹۰ء میں خدا تعالی کی طرف سے مزید اس حادثہ کی تحسین میں یہ الہام ہوا " ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق الله خير وابقى "B الوصیت" کی تصنیف ان المی خبروں کی بناء پر حضور نے ۲۰/ دسمبر ۱۹۰۵ء کو "الوصیت" کے نام سے ایک رسالہ شائع فرمایا جس میں ان الہامات کا تذکرہ کر کے حضور نے جماعت کو نہایت شفقت بھرے الفاظ میں اپنے اندر روحانی انقلاب برپا کرنے کی تلقین فرمائی اور اپنے بعد قدرت ثانیہ یعنی نظام خلافت کے ظہور کی خوش خبری دی چنانچہ لکھا۔" یہ خدا تعالی کی سنت ہے۔اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہے ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کتب الله لا غلبن انا ورسلی (خدا نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے نبی غالب رہیں گے ) اور غلبہ سے