تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page iii of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page iii

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم دیبا چه طبع اوّل جیسا کہ احباب کو معلوم ہے کچھ عرصہ قبل سید نا حضرت خلیفہ البیع الثانی ایدہ اللہ نصر والعز یز نے اعلان فرمایا تھا کہ تاریخ سلسلہ کو محفوظ کرنے کا کام جلد ہی شروع کر دیا جائے گا۔چنانچہ اس کے تھوڑا عرصہ بعد حضور نے مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد کا اس کام کے لئے انتخاب فرمایا اور مکرم مولوی صاحب موصوف نے تدوین کا کام شروع کر دیا۔اکتوبر ۱۹۵۶ء میں حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خاکسار کو یا د فرمایا اور تاریخ احمدیت کی طباعت اور اشاعت کی ذمہ داری ادارۃ المصنفین کے ذمہ لگائی۔حضور نے اس ضمن میں بعض قیمتی ہدایات دیں اور فرمایا کہ جس قدر جلد ہو سکے اس عظیم کام کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دسمبر ۱۹۵۷ء میں تاریخ احمدیت کی پہلی جلد اور دسمبر ۱۹۵۸ء میں دوسری جلد شائع کر دی گئی۔اب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تیسری جلد بھی شائع کی جارہی ہے۔ان ہر سہ جلدوں میں سید نا حضرت مسیح * موعود علیہ السلام کے زمانہ کے واقعات سوانح حیات اور آپ کی سیرت طیبہ مکمل طور پر آگئی ہے۔تاریخ کی متینوں جلدوں کی ضخامت تیرہ سو صفحات سے زائد ہوگئی ہے کیونکہ اب تک تاریخ سلسلہ سے متعلق جس قدر کتابیں شائع ہو چکی ہیں ان سب کو تاریخ احمدیت کی تدوین میں مد نظر رکھ لیا گیا ہے۔خاکسار نے مسودہ پر نظر ثمانی کرتے ہوئے اس بات کو پوری طرح مد نظر رکھا ہے کہ کتاب ہر لحاظ سے جامع اور مستند ہو اور کسی بات کی کمی باقی نہ رہے۔حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہان پوری مکرم قاضی محمد نذیر صاحب فاضل، مکرم مولوی محمد شریف صاحب سابق مبلغ فلسطین، مکرم مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر فاضل اور مکرم مولوی فضل دین صاحب قابل شکر یہ ہیں کہ انہوں نے بعض مقامات پر مسودہ کے متعلق بیش قیمت مشورے دیے۔فجزاهم الله - مکرم شاہ محمد صاحب کا تب بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مسودہ کی کتابت صرف کا تب ہونے کے لحاظ سے ہی نہیں کی بلکہ محبت اور عقیدت سے اسے لکھا اور اس کا حق ادا کیا۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تدوین تاریخ کے متعلق ایک یہ ہدایت بھی فرمائی تھی کہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر " تاریخ احمدیت میں محفوظ ہونا ضروری ہے تا ان کے نیک نمونہ اور قربانیوں کی اقتداء آنے والی نسلیں کر سکیں۔چنانچہ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں تقریباً دوصد صحابہ کی مختصر سیرت و سوانح درج کر دی گئی ہیں اگر اس کو مجموعی رنگ میں شائع کیا جائے تو سیرت صحابہ پر موجودہ ایڈیشن میں یہ تینوں جلد میں دو جلدوں میں آگئی ہیں۔