تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 245
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۴۲ تو ہم ہیں سال کے عرصے میں ساری دنیا کو فتح کرلیں گے۔" اسلام کی طفح عظیم ڈوئی شروع ہی سے اسلام اور محمد رسول اللہ ا کا سخت دشمن تھا۔ڈوئی کی اسلام دشمنی وہ آنحضرت کو (معاذ اللہ ) کا ذب اور مفتری خیال کرتا تھا اور اپنی خباثت سے گندی گالیاں اور فحش کلمات سے حضور کو یاد کرتا تھا۔اس کے اندرونی بغض اور بد باطنی کا اندازہ لگانے کے لئے فقط یہ امر ہی کافی ہے کہ اس نے اپنے اخبار ”لیوز آف ہیلنگ ۲۵/ اگست ۱۹۰۰ء میں صاف اور کھلے لفظوں میں یہ پیش گوئی کہ " میں امریکہ اور یورپ کی عیسائی اقوام کو خبردار کرتا ہوں کہ اسلام مردہ نہیں ہے اسلام طاقت سے بھرا ہوا ہے اگر چہ اسلام کو ضرور نابود ہونا چاہئے محمڈن ازم کو ضرور تباہ ہونا چاہئے مگر اسلام کی بربادی نہ تو مضحل لاطینی عیسویت کے ذریعہ ہو سکے گی نہ ہی بے طاقت یونانی عیسویت کے ذریعہ سے۔" حضرت مسیح موعود کی طرف سے ڈوئی کو مباہلہ کا چیلنج جب ڈوئی اپنی شوخیوں اور بے باکیوں میں یہاں تک "1 پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں آنحضرت ﷺ کی غیرت کا ایک زبر دست جوش پیدا کیا۔چنانچہ حضور نے ستمبر ۱۹۰۲ء کو ایک مفصل اشتہار لکھا جس میں حضور نے تثلیث پرستی پر تنقید کرنے اور اپنے دعوئی مسیحیت کا تذکرہ کرنے کے بعد تحریر فرمایا۔ا حال میں ملک امریکہ میں یسوع مسیح کا ایک رسول پیدا ہوا ہے جس کا نام ڈوئی ہے۔اس کا دعوئی ہے کہ یسوع مسیح نے بحیثیت خدائی دنیا میں اس کو بھیجا ہے تا سب کو اس بات کی طرف کھینچے کہ بجر مسیح کے اور کوئی خدا نہیں۔۔۔اور بار بار اپنے اخبار میں لکھتا ہے کہ اس کے خدا یسوع مسیح نے اس کو خبردی ہے کہ تمام مسلمان تباہ اور ہلاک ہو جائیں گے اور دنیا میں کوئی زندہ نہیں رہے گا بجز ان لوگوں کے جو مریم کے بیٹے کو خدا سمجھ لیں اور ڈوئی کو اس مصنوعی خدا کار سول قرار دیں۔" سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے ایک سل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا ہے یا ہمارا خدا۔وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیش گوئی نہ سنادیں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونو میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرجائے کیوں کہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا مانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی مانتا ہوں۔اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے۔چاہیئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے۔اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب i