تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 91
تاریخ احمدیت جلد ۲ ٨٨ جدی بھا ار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار اصل مسل دیکھی تھی اس کا نمبر ۸۰۰ تھا۔اس لڑائی کو بوئروں کی جنگ کا نام دیا گیا ہے۔بوئر ولندیزی آباد کاروں کی نسل سے تھے۔یہ لڑائی ۱۹۰۲ء تک جاری رہی اور اس کے اختتام پر ان علاقوں کو مستعمرات کا درجہ دے دیا گیا۔جنہوں نے ۱۹۱۵ ء میں آپس میں اتحاد کر کے جنوبی افریقہ کی متحدہ حکومت قائم کرلی۔۳۱ ملاحظہ ہو " رو نداد جلسه دعا " مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان دار الامان ۱۹۲۵ء ۳۲ رو نکر او جاس دعا صفحه ۳۲ ۳۳ الحکم ۱۲/ اپریل ۱۹۰۰ء صفحه ۱-۲ نام ش۳ " حقیقته الوحی صفحه ۳۶۲ ۳۵ مفصل خطبہ کے لئے ملاحظہ ہو ا حکم ۱۷ار اپریل ۱۹۰۰ء صفحہ ۳ تا ۵ ۳۶ روایات صحابہ جلد ۱۳ صفحه ۳۸۵-۱۳۸۱ روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی) ۳۷ سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۹۹۰ ۳۸ روایات صحابہ جلد ۱۳ صفحه ۳۸۵ ۳۹- "حقیقته الوحی صفحه ۳۶۲ ۴۰ اصحاب احمد " جلد نہم صفحہ ۷۵ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسی حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے مل گئی ہے۔مگر حضرت بھائی صاحب نے اپنے پاس موجود تبرکات کی جو فہرست الفضل ۲۲/ ستمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۲ کالم ۲ میں شائع فرمائی تھی اس میں اس کرسی کا ذکر موجود نہیں ہے اس کرسی پر یہ عبارت لکھی ہے کہ " یہ وہ کرسی ہے جس پر بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خطبہ الہامیہ کا نزول ہوا۔" ان الفاظ میں کچھ ذہول کا رخل معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے یہ خطبہ کھڑے ہو کر دیا نہ کہ بیٹھ کر۔اس لئے یہ خیال کہ اس کرسی پر " خطبہ الہامیہ " کا نزول ہو ا صحیح نہیں ہے۔چنانچہ بعد میں جب مولوی برکات احمد صاحب راجیکی درویش قادیان نے ذکر کیا کہ ایسی متعدد کرسیاں دار المسیح میں موجود ہیں تو حضرت بھائی جی نے تسلیم کر لیا کہ یہ تعین سمو ہے۔( اصحاب احمد جلد نهم طبع دوم صفحه ۵۳۶، مطبوعه ۱۹۸۲ء) الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۰ء صفحه ۲ کالم اور یکم مئی ۱۹۰۰ ء و سیرت المهدی حصہ سوم صفحه ۶۰ و اصحاب احمد جلد نهم صفحه ۲۷۷ تا ۲۷۳ W- ۴۲ - الحکم یکم مئی ۱۹۰۰ء صفحه ۵ ۴۳- " روایات صحابہ جلد ۳ ۴۴- الحکم ۱۴/۷ جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ ۵ کالم ۲ ۲۵ سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۰۷ ۴۶- سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۱۰۷