تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 643
تاریخ احمدیت جلدا ۶۴۲ اختبار الحکم کا اجراء اگست ۱۸۹۷ء کو ہنری مارٹن کلارک نے ایک نالش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کر دی۔میں نے اس مقدمہ کے حالات دوسرے جنگ مقدس کے نام سے لکھے۔اس وقت مجھے سلسلہ کی ضروریات کے اعلان اور اظہار کے لئے اور اس پر جو اعتراضات پولٹیکل اور مذہبی پہلو سے کئے جاتے تھے ان کے جوابات کے لئے ایک اخبار کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ اکتوبر ۱۸۹۷ء میں الحکم جاری کر دیا۔اس وقت گورنمنٹ پریس کے خلاف تھی اور موجودہ پریس ایکٹ اس وقت بھی قریب تھا کہ پاس ہو جاتا۔تاہم ان مشکلات میں میں نے خدا پر بھروسہ کر کے امرت سرسے اخبار احکم جاری کر دیا ۱۸۹۷ء کے آخر میں روزانہ پیسہ اخبار کے مکر راجراء کی تجویز ہو چکی تھی اور منشی محبوب عالم صاحب کی خواہش کے موافق میں نے پیسہ اخبار کے ایڈیٹوریل سٹاف میں جانا منظور کر لیا تھا۔میرا خیال تھا کہ الحکم کا ہیڈ کوارٹر لا ہو ر بدل دینا چاہئے۔اور محض اس خیال سے میں نے پیسہ اخبار کے ساتھ تعلق کرنا گوارا کر لیا تھا۔مگر ۱۸۹۷ء کے دسمبر میں جب جلسہ سالانہ پر میں قادیان آیا تو یہاں ایک مدرسہ کے اجراء کی تجویز ہوئی اور اس کے لئے خدمات کے سوال پر میں نے اپنی خدمات پیش کر دیں اور اس طرح قدرت نے مجھے دیار محبوب میں پہنچا دیا۔الحکم کے اجراء کے وقت مجھے بہت ڈرایا گیا تھا کہ مذہبی مذاق کم ہو چکا ہے اور احمدیت کے ساتھ عام دشمنی پھیل چکی ہے اس لئے احکم کامیاب نہ ہو گا۔۔۔۔۔قادیان میں ایڈیٹر الحکم جنوری ۱۸۹۸ء میں آگیا اور پیسہ اخبار کے ساتھ جو جدید تعلق پیدا کر لیا گیا تھا اسے اور لاہور کے دیگر منافع کو قادیان پر قربان کر دیا اور الحمد للہ میں اس سودے میں نفع مند ہوں قادیان میں اس وقت پریس کی سخت تکالیف تھیں۔نہ پریس ملتا تھا نہ گل کش اور نہ کاتب اور نہ یہ لوگ قانیان آکر رہنا چاہتے تھے۔تاہم ایڈیٹرا حکم ان مشکلات کا مقابلہ کرتا رہا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کو قدرت نے زود نویسی کا زبردست جو ہر ودیعت کر رکھا تھا جسے حضرت مسیح موعود کے فیض صحبت نے چار چاند لگا دیے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام خواہ دربار شام میں ارشاد فرماتے یا سیر میں چلتے ہوئے گفتگو فرماتے آپ حضور کے ان ملفوظات وارشادات کو کمال برق رفتاری سے قلمبند کر کے فورا " ا حکم میں شائع کر دیتے۔احکم کے ذریعہ سے حضور کی تازہ بتازہ وحی کی اشاعت کا بھی اس میں خاص اہتمام ہو گیا۔اسی طرح مرکز کے کوائف اور بزرگان سلسلہ بلکہ سید نا حضرت مسیح موعود کے گراں قدر مضامین بھی چھپنے لگے۔اور جماعت کے احباب گھر بیٹھے حضرت مسیح موعود کے روحانی مائدہ سے لطف اندوز ہونے لگے۔اس طرح یہ اخبار حضرت مسیح موعود کی کتب کے سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا مستند ترین ذخیرہ اور جماعت کے ایک نئے دور کا سنگ میل بن گیا۔۱۹۰۱ء تک اخبار "الحکم " نے یہ بے مثال خدمت تنها سر انجام دی۔جو ایک غیر معمولی بات ہے