تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 47 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 47

تاریخ احمدیت جلدا MY خاندانی حالات -۲۹ گھاگرا کی لڑائی ۲ مئی ۱۵۲۹ء کو ہوئی اور بابر کا انتقال ۳۶ - دسمبر ۱۵۳ء کو ہوا ( تاریخ ہند و پاکستان) من وفات ۹۴۰ رود کوثر " مرتبه شیخ محمد اکرم ایم اے ناشر تاج آفس بندر روڈ کراچی۔من وفات ۹۳۵ ( تذکره اولیاء ہند و پاکستان از مرزا اختر د لوی ناشر ملک سراج الدین بازار کشمیر کی لاہور مطبوعہ ۱۹۵۴ء ۵۲- من وفات ۷ ۹۴ (ایضاً) ۵۳- من دفات ۵۹۴۸ ( ایضا) ۵۴ - من وفات ۹۴۲ (ایضاً) ۵۵- من وفات ۵۹۴۳ (ایضاً) ۵۶- رود کوثر » صفحه ۲۳٬۲۲ کے تعارف » صفحه ۲۳۰-۲۳۱- ۵۸ مطابق ۶۱۸۰۶ و ۱۲۲۱؎ ( تقویم عمری از حضرت میاں معراج دین عمر مطبوعہ ۱۹۰۶ ء نیز توفیقات الهاميه تأليف اللواء المصرى محمد مختار باشا طبع اول بالمطبعہ المیرید بولاق مصر المحميه ۱۳۱ھ صفحہ ) ۵۹ شمشیر خالصہ یا تواریخ گورو خالصه جلد سوم ۲۸۴ مولفہ بھائی گیان سنگھ مطبوعہ ۱۸۹۳ء- ال "سیرت المهدی حصہ سوم صفحہ ۱۴۷ تا ۱۵۲ طبع اپریل ۱۹۳۹ ء یک ڈیو تالیف و اشاعت قادیان : - "مسيرة المهدی " حصہ اول صفحه ۱۲۹ ۶۳۔حضرت مرزا گل محمد صاحب کے حالات کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ۷ ۱۴۴ جون ۶۱۹۴۲- "سیرت المهدی" حصہ اول صفحه ۴۱۴۴۰- "حیات النبی جلد اول صفحه ۲۴ تا ۷ ۲ مولفہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی طبع اول اکتوبر ۱۹۱۵ ء ہندوستان سٹیم پریس لاہور الحکم ۱۴ جنوری ۱۹۳۸ء " ستارہ قیصریہ صفحہ ۶ الحکم ۳۰- نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲- احکم ۱۴- جنوری ۱۹۳۹ء صفحہ ۷۴۵۔عمدة التواریخ دفتر اول صفحه ۲۰ از لالہ سوہن لعل مطبع آریہ پریس لاہور ۱۸۸۵ء ایضاد نتر موم حصہ اول صفحہ ۷۶ ۶۵ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء۔صفحہ ۲۰ ۶۶ " قادیان " صفحه ۷۸ h ۶- شمشیر خالصہ حصہ سوم صفحہ ۷۰۹ طبع اول (۱۸۹۲ء) از بھائی گیان سنگھ گیانی یادر ہے کہ ان لڑائیوں کے دوران میں پنجاب کے ہزاروں سکھ انگریزوں کے ساتھ مل گئے تھے " "بہادر شاہ ظفر اور ان کا عمد " از رئیس احمد جعفری ندوی صفحه ۱۳۲ ناشر کتاب منزل کشمیری بازار لاہور) الحاق پنجاب کے وقت باغی سرداروں کی جاگیریں ضبط کر کے ان کی پنشن مقرر کر دی گئی تھی۔( تاریخ ہند و پاکستان) حصہ دوم صفحه ۱۷۵ ۷۰ یہ حصہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ایک غیر مطبوعہ خطبہ (فرمودہ ۲۲- نومبر ۱۹۳۵ء) سے ماخوذ ہے جو شعبہ زرو نویسی (ربوہ) کے ریکارڈ میں موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے اب وجد سمرقند سے ملک ہند میں جب وارد ہوئے تو پہلے دہلی گئے تھے۔چنانچہ ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں۔بابر بادشاہ کے وقت میں کہ جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا بزرگ اجداد اس نیاز مندالی کے خاص سمرقند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا ہجرت اختیار کر کے دلی میں پہنچے۔اور دراصل یہ بات ان کاغذوں سے اچھی طرح واضح نہیں ہوتی کہ کیا وہ بابر کے ساتھ ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے یا بعد اس کے بلا توقف اس ملک میں پہنچ گئے۔لیکن یہ امر اکثر کا غذات کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہو تا ہے کہ وہ ساتھ ہی پہنچے ہوں یا کچھ دن پیچھے آئے ہوں مگر انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا خاص تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز سرداروں میں سے شمار کئے گئے تھے “۔(ازالہ اوہام حاشیہ صفحہ ۱۲۱-۱۳۲ طبع اول) مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر ذی الحجہ ۰۵۱۳۰۸