تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 594
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۹۳ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام ان تین ناقابل تردید بیانات سے واضح ہے کہ ایک عرصہ کے بعد آریہ سماجی اور سناتن دھرمی دونوں حلقے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ پنڈت لیکھرام سے متعلق خدا کا چمکتا ہو انشان پوری شان سے ظاہر ہوا۔ہندوؤں کی شورش اس عظیم الشان پیشگوئی کے واضح رنگ میں پورے ہونے پر چاہیے تو یہ تھا کہ ہندو اسلام اور پیغمبر خدا کی سچائی پر ایمان لے آتے مگر افسوس اس موقع پر ان کی قساوت قلبی میں اور بھی اضافہ ہو گیا اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف زبر دست شورش برپا کر دی۔خصوصاً لاہور میں جہاں یہ واقعہ ہوا تھا ہندوؤں نے کئی مسلمان بچوں کو مٹھائی وغیرہ میں زہر دے دیا۔جب ایسی متعدد واردات ہو ئیں تو مسلمانوں نے ایکا کر لیا کہ وہ ہندوؤں کے ہاتھوں سے نہیں کھائیں گے اور اس طرح کئی دکانیں مسلمانوں کی کھل گئیں۔آریہ لوگوں نے ملک میں اپنے جاسوسوں کا جال بچھا دیا اور ملک کا چپہ چپہ چھان مارا اور قاتل کے گرفتار کرنے والے کے ا لئے بڑے بڑے انعام رکھے گئے مگر اس شورش کا حقیقی اور تمام تر رخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات مقدس کی طرف تھا۔چنانچہ ہندو اخباروں نے آپ کے خلاف عوام اور حکومت دونوں کو مشتعل کرنے میں کوئی دقیقہ فرد و گذاشت نہیں کیا۔اور ملک بھر میں ایک زبر دست آگ لگادی۔اور صریح لفظوں میں آپ کو قتل میں شریک قرار دیا۔ہندو اخبارات کی زہر چکائی چنانچہ " اخبار عام ۱۰ مارچ ۱۸۹۷ء نے حکومت کو مخاطب " کرتے ہوئے لکھا۔"اگر ڈپٹی صاحب یعنی آتھم کے ساتھ ایسا واقعہ ہو جاتا جس کا خمیازہ لیکھرام کو بھگتنا پڑا تب اور صورت تھی"۔یہ قتل کئی ایک اشخاص کی مدت کی سوچی اور سمجھی ہوئی اور پختہ سازش کا نتیجہ ہے۔جس کی تجاویز امرت سر اور گورداسپورہ کے نزدیک اور ادھر دہلی اور ہمیئی کے ارد گرد مدت سے ہو رہی تھیں۔کیا یہ غیر اغلب ہے کہ اس سازش کا جنم ان اشخاص سے ہوا ہو جو علانیہ بذریعہ تحریر و تقریر کہا کرتے تھے کہ پنڈت کو مار ڈالیں گے اور مزید بر آں یہ کہ پنڈت اس عرصہ میں اور فلاں دن ایک درد ناک حالت میں مرے گا۔کیا آریہ دھرم کے مخالف چند ایک کتب کے ایک خاص مصنف کو اس سازش سے کوئی تعلق نہیں "۔۔ائیں ہند میرٹھ (۱۰ مارچ ۱۸۹۷ء) نے لکھا ”ہمارا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے لیکھرام کی موت کی نسبت پیشگوئی کی تھی۔کیا اس کو علم غیب تھا"۔