تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 340 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 340

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۳۹ جماعت کا سنگ بنیاد انہوں نے وعدہ کر لیا۔چنانچہ حضرت اقدس اس کے وعظ میں تشریف لے گئے۔لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور حضور کا اشتہار نہ سنایا بلکہ جس وقت لوگ منتشر ہونے لگے اس وقت سنایا مگر اکثر لوگ منتشر ہو گئے تھے۔حضرت اقدس کو اس پر بہت رنج ہوا۔فرمایا ہم اس کے وعدہ کے خیال سے ہی اس کے لیکچر میں آئے تھے کہ ہماری تبلیغ ہو گی۔ورنہ ہمیں کیا ضرورت تھی۔اس نے وعدہ خلافی کی ہے۔خدا کے بندوں کی خفگی رنگ لائے بغیر نہیں رہتی۔چنانچہ یہ مولوی تھوڑے عرصہ کے اندر ہی چوری کے الزام کے نیچے آکر سخت ذلیل ہوا۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو محلہ جدید میں بیعت اولیٰ کا آغاز حضرت اقدس کے اشتہار پر جموں، خوست، بھیرہ سیالکوٹ گورداسپور گوجرانوالہ جالندھر، پٹیالہ مالیر کوٹلہ انبالہ کپور تھلہ اور میرٹھ وغیرہ اضلاع سے متعدد مخلصین لدھیانہ پہنچ گئے۔بیعت اوٹی کا آغاز لدھیانہ میں حضرت منشی عبد اللہ سنوری کی روایات کے مطابق ۲۰ رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت صوفی احمد جان کے مکان واقع محلہ جدید میں ہوا۔وہیں بیعت کے تاریخی ریکارڈ کے لئے ایک رجسٹر تیار ہوا۔جس کی پیشانی پر یہ لکھا گیا۔” بیعت تو بہ برائے حصول تقویٰ و طہارت"۔رجسٹر میں ایک نقشہ تھا جس میں نام ولدیت اور سکونت درج کی جاتی تھی۔حضرت اقدس بیعت لینے کے لئے مکان کی ایک کچی کو ٹھری II میں (جو بعد کو دار البیعت کے مقدس نام سے موسوم ہوئی) بیٹھ گئے اور دروازے پر حافظ حامد علی صاحب کو مقرر کر دیا اور انہیں ہدایت دی کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے کمرہ میں بلاتے جاؤ۔چنانچہ آپ نے سب سے پہلے حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔حضرت اقدس نے مولانا کا ہاتھ کلائی پر سے زور کے ساتھ پکڑا اور بڑی لمی بیعت لی۔ان دنوں بیعت کے الفاظ یہ تھے۔" آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے ان تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے تو بہ کرتا ہوں جن میں میں مبتلا تھا اور بچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور میری سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا۔اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کے لذات پر مقدم رکھوں گا اور ۱۲- جنوری کی دس شرطوں پر حتی الوسع کاربند رہوں گا۔اور اب بھی اپنے گذشتہ گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی چاہتا ہوں استَغْفِرُ اللهَ رَبّى اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبّى - اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبّى مِنْ كُلِّ ذَنْبِ وَاتُوبُ إِلَيْهِ أَشْهَدُ انْ لَا ال NANGAN الله وحده لا شريكَ له وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ۔لَهُ رب إني ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفَتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا انْتَ