تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 107 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 107

تاریخ احمدیت جلدا ۲۸ ایشان صفحه ۲۳۵ 1-4 قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام ۲۹- سکاچ مشن ۱۸۲۹ء میں سکاٹ لینڈ کے ایک مشنری الگزنڈرڈف کے ذریعہ سے ہندوستان میں قائم ہو اتھا ر بشارت الہند و پاکستان صفحہ ۲۳۷) یادر ہے کہ ۱۸۵۷ء سے ہنگامہ میں سیالکوٹ چھاؤنی میں جو انواج متعین تھیں ان کے بڑے بڑے انگریز فوجی افسروں میں پادری ہنٹر کا نام بھی شامل ہے ( روزنامہ امروز ۱۲ مئی ۱۹۵۷ء) ۱ ( تاریخ بشارت الهند و پاکستان صفحه ۲۴۱) -۳۲ سید عطاء اللہ شاہ بخاری " مولقه شورش کا شمیری صفحه ۱۸۷ تا شر کتبہ چٹان لاہور طبع اول ستمبر ۱۹۵۷ء ۳۳- شمس الاخبار لکھنو با تمام پادری کر یونی صاحب حوالہ کتاب البریہ صفحه ۱۰۴ -۳۴ مصنفه رابرت کلارک مطبوعه لندن ۸۸۵ صفحه ۲۹ Punjab and Sindh Mission The Missions by R۔Clark -۳۵ بشارت الهند و پاکستان صفحه ۲۷۵ ۳۷۔علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنا ہے "۔صفی ہو ۳۸- حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات " مشموله بر این احمدیہ حصہ اول طبع چهارم صفحه ۱۲ ( مرتبہ معراج الدین صاحب ) نیز احکم ۷- اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ نمبر ۳ ۳۹ سیرت مسیح موعود (مولفه حضرت خلیفہ المسی الثانی ایدہ اللہ تعالی صفحه ۲ طبع چہارم حیات احمد " جلد اول نمبر ۲ صفحه ۴۱-۱۴۲ مولفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ام روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد دہم صفحہ ۱۳۴ الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۲۵ء صفحه ۶ ۴۳۔احکم ہے۔اپریل ۱۹۳۳ء صفحہ میں -۴۴ اخبار زمیندار مئی ۱۹۰۸ء کواله بدر ۲۵ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۱۳ ۲۵ ولادت ۱۸ اپریل ۱۸۴۴ ء وفات ۲۵ دسمبر ۱۹۲۹ء ان کی وفات پر ڈاکٹر اقبال نے مادہ تاریخ نکالا " ما ارسلنک الا رحمته اللعلمين" ٢٤٣٩- ذکر اقبال (مولانا عبد المجید صاحب (مالک) طبع اول صفحہا ۴۷۲ ایضا صفحه ۲۷۸ - ناشریزم اقبال کلب روڈ لاہور ۱۹۵۵ء۔۴۸ مکتوب ۲۹ نومبر ۱۹۲۳ء بنام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالٰی منقول از سیرة المهدی حصہ اول صفحه ۲۷۰ طبع دوم ۰۶۱۹۳۵ ۴۹ الحکم ہے۔اپریل ۱۹۳۲ء صفحه ۳ یہ ایک نسبتی تبصرہ ہے جس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس وقت سیالکوٹ کے ایک خاص حلقہ میں حضرت اقدس کی عربی استعداد دوسروں کی نسبت اچھی تھی اور آپ ایک حد تک عربی میں اپنا مافی الضمیر ادا کر سکتے تھے کیونکہ آپ نے حصول علم کے لئے کسی پڑے مرکز یا شہر کا سفر اختیار نہیں کیا تھا۔الله اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انگریزی خواں تھے۔صرف یہ مطلب ہے کہ آپ کو حروف شناسی آگئی تھی کیونکہ ابتدائی زمانہ میں انگریزی کی جو پہلی کتاب ہوتی تھی اس میں صرف انگریزی کے حروف تہجی کی شناخت کروائی جاتی تھی اور دوسری کتاب میں حروف جوڑ کر آسان الفاظ بنانے کی ابتدائی مشق ہوتی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ حضور کو ابتداء ہی سے انگریزی زبان سے کوئی مناسبت اور دلچسپی نہیں تھی۔دعوئی مسیحیت کے بعد ایک مرتبہ محض تبلیغ اسلام کی غرض سے آپ کو انگریزی پڑھنے کا ضرور خیال آیا۔یہ تجویز بھی فرمائی کہ انجیل متی کی انگریزی عبارت کو اردو حروف میں لکھا جائے اور ہر لفظ کے نیچے اس کے معنی دیتے جائیں۔اس غرض کے لئے انجیل متی کے دو چار باب بعض انگریزی خواں دوستوں میں تقسیم بھی کئے گئے تھے لیکن کچھ عرصہ کے بعد خودہی فرمایا کہ ”میں نے خود انگریزی پڑھنے کے ارادہ کو ترک کر دیا ہے تاکہ یہ ثواب ہمارے انگریزی خواں دوستوں کے