لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 618 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 618

618 احمدی واقف ہیں۔190 ء میں آپ نے نیلا گنبد میں موسیٰ اینڈ سنز کے نام سے سائیکلوں کا کاروبار شروع کیا۔محترم میاں محمد یحیی صاحب انہی کے لائق فرزندوں میں سے ہیں۔لاہور کے قائدین میں سے غالباً سب سے کم تعلیم یافتہ ہیں مگر متین، سنجیدہ اور صائب الرائے بزرگ ہیں۔اچھے تعلیم یافتہ حضرات مجلسی امور میں ان سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔سید حضرت اللہ صاحب پاشا قائد مقرر ہوئے تو محترم یحیی صاحب کو آپ نے مشیر مقرر کیا۔نو سال سے متواتر سیکرٹری تحریک جدید جماعت احمد یہ لاہور چلے آ رہے ہیں۔مرکز کی طرف سے مجلس کے دستور اساسی پر نظر ثانی کے لئے جو کمیٹی بنی تھی۔محترم یحیی صاحب اس کے رکن بنائے گئے تھے۔قیادت سنبھالنے سے قبل سابقہ دو قائدین کے ساتھ بطور ناظم مال کام کرنے کی توفیق ملی۔۱۹۵۵ء کے سیلاب میں جی بھر کر بنی نوع انسان کی خدمت کا موقعہ ملا۔آپ کے زمانہ قیادت میں مرکز کی زیر ہدایت تعمیر ہال کے لئے خاصی رقم فراہم ہوئی۔فضل عمر ہسپتال، جامعہ احمدیہ اور یادگاری مسجد ربوہ کے لئے عطیہ جات مرکز میں بھجوائے گئے۔وائی۔ایم سی۔اے ہال میں دو تبلیغی جلسے ہوئے ایک ۵ - فروری ۱۹۶۱ء اور دوسرا ۱۹ - جون ۱۹۶۱ء اسی ہال میں عیسائیوں کی سہ روزہ کانفرنس تھی۔ان کی تقاریر کے جواب محترم شیخ عبدالقادر صاحب لائنکپوری، محترم شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ اور محترم ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب موگا مرحوم کے مشورہ سے تیار کر کے بر وقت شائع کر کے تقسیم کئے جاتے رہے۔شیخ محمد احمد صاحب مرحوم نے ان کی قیادت میں قابل قدر کام کیا ہے۔۱۹۵۶ء میں خلافت کے موضوع پر مرکز میں مجلس نذا کر تھی۔لاہور کے محترم قاضی برکت اللہ صاحب ایم۔اے نے اوّل انعام حاصل کیا۔محترم یحیی صاحب کے سپرد ایک خاص ڈیوٹی لگائی گئی تھی جسے انہوں نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔حضرت اقدس امیر المومنین نے اس پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوئے جو کچھ تحریر فرمایا اس کا مفہوم درج ذیل ہے۔یہ عبارت شیخ مبارک محمود پانی پتی نے محترم بیٹی صاحب اور محترم محمد صدیق صاحب شاکر سابق معتمد کو دکھا کرلکھی ہے: