تاریخ افکار اسلامی — Page 77
تاریخ افکار را سلامی رائے یا اجتہاد شریعت اسلامیہ کا چوتھا ماخذ رائے ہے یعنی کوئی عالم یا چند عالم مل کر سوچ بچار اور غوروفکر کے بعد جو رائے قائم کریں اس کے مطابق عمل کرنا خودان علما کے لئے بھی ضروری ہے اور ان کے لئے بھی جو ان علماء کے زیر اثر ہیں بشرطیکہ یہ رائے " ان شرائط کے مطابق ہوئے جن کی تفصیل صفحات آئندہ میں پیش کی جارہی ہے۔رائے جس کو ایک حد تک شرعی تقدس حاصل ہے وہ آزادانہ رائے نہیں جو انسان اپنے طور پر اپنی سمجھ اور غور و فکر کے بعد قائم کرتا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ کا حل ہے قرآن کریم یا حد یث صحیحہ سے بالصراحت معلوم نہ کیا جا سکے اور نہ اجماع کے ذریعہ کوئی وضاحت ملے تو پھر قرآن کریم کے مقاصد عامہ اور حدیث کے اصول معینہ کی روشنی میں اُمت کی بہبود اور مصلحت عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی مرضی کے بارہ میں درجہ اجتہاد پر فائز علما معلومات حاصل کریں۔اسی انداز غورو فکر اور کوشش کا دوسرا نام اجتہاد اور رائے ہے۔اجتہاد بالرائے یعنی مذکورہ بالا اندا ز غور و فکر کے ذریعہ کوئی رائے قائم کرنے یا کسی فیصلے کے اظہار کی شرعی حیثیت کے بارہ میں خاصہ اختلاف ہے۔بعض صحابہ اور کئی تابعین دینی معاملات میں کسی رائے کے اظہار سے بچتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ ہم اپنی کسی سوچ اور رائے کو خدائی حکم یا خدائی منشاء کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں کہ اس کے الرأى مايراه القلب بعد فکر و تأمل وطلب المعرفة وجه الصواب أو تأمل وتفكير في تعرف ما هو الا قرب إلى كتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم۔(محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ١٧ و ٢٦) من الفقهاء من يقول لا يصلح اخذ الاحكام الاسلامية ألا من النصوص كداؤد الظاهرى و ابن الحزم الأندلسي۔۔۔۔۔ولكن الذين اخذوا بالرأى عند عدم وجود نص ظاهر هم الأكثرون بل يكاد ينعقد الاجماع على الاجتهاد بالرأى - ( محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ٦٩)