تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 2 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 2

تاریخ افکا را سلامی ان روایات میں سے دو کے معین الفاظ یہ ہیں :۔عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَالِكَ وَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ينتين وَسَبْعِينَ مِلة و تفترق أُمَّتِي عَلى ثَلاث وسَبْعِينَ مِلَّةَ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةَ وَاحِدَةً قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ : مَا أَنَا عَلَيْهِ وَاَصْحَابِي۔یعنی حضرت عبداللہ بن عمر ڈبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میری امت پر بھی وہی حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے۔اور ان دونوں فرقوں میں ایسی مطابقت ہوگی جیسی ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے علانیہ بد کاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا جو اس قبیح حرکت کا مرتکب ہوگا۔بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ایک فرقہ کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔صحابہ نے پوچھا حضور بی نا جی فرقہ کون سا ہوگا۔تو آپ نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت اور روش پر چلے گا۔عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ القُرْآنِ إِلَّا رَسُمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِّنَ الْهُدَى عُلَمَاءُ هُمْ شَرُّ مَنْ تحتَ أدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِندِهِمُ تَخْرُجُ الفتنة وفيهم تعود - حضرت علی کرم اللہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا یعنی لوگ اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔الفاظ اور عبارت کے سوا قر آن کریم کا بھی کچھ باقی نہیں رہے گا یعنی قرآن کریم ترمذی کتاب الایمان، باب ما جاء في افتراق هذه الامة - مشكلوة كتاب العلم الفصل الثالث وكنز العمال جلد ۶ صفحه ۴۳