تاریخ افکار اسلامی — Page 191
تاریخ افکا را سلامی 191 حضرت امام الليث بن سعد مصری لیث بن سعد ۹۳ ھ میں پیدا ہوئے اور وفات ۱۷۵ ھ میں ہوئی۔آپ اصفہانی الاصل تھے۔آپ کے آباء واجداد حضرت عمرو بن العاص کے اُس لشکر میں شامل تھے جس نے مصر فتح کیا تھا۔یہ لوگ فتح کے بعد مصر میں ہی رہ گئے۔وہاں کے ایک زرخیز علاقہ کے قصبہ قلعندہ میں ان کی زرعی اراضی تھیں۔یہ علاقہ لطیف آب و ہوا اور پھلوں کی کثرت کے لئے مشہور تھا۔کیٹ خاصے خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے تھے لے آپ نے اس وقت کے مصر کے سر بر آوردہ علماء سے تعلیم حاصل کی اس کے بعد حجاز آئے۔امام مالک سے اور مکہ کے علماء سے بھی استفادہ کیا۔امام ابوحنیفہ سے بھی تبادلہ خیال رہا۔غرض کہ سارے عالم اسلامی کے علوم سے واقفیت بہم پہنچائی کے بہت بڑے عالم مانے جاتے تھے۔امام شافعی ان کے بارہ میں کہا کرتے تھے کہ لَيْتُ أَفَقَهُ مِنْ مَالِكِ إِلَّا أَنَّ أَصْحَابَهُ لَمْ يَقُومُوا یہ کہ لیٹ مالک سے زیادہ فقیہ تھے لیکن ان کے شاگر دا پنا فرض ادانہ به کر سکے اور اُن کے نظریات کو عام کرنے میں ناکام رہے۔امام مالک سے ان کی خط و کتابت تاریخ فقہ کا ایک اہم باب ہے انہوں نے امام مالک کے اس نظریہ پر تنقید کی کہ عمل اہل مدینہ عالم اسلام کے لئے حجت ہے۔آپ کا کہنا تھا کہ ہزاروں صحابہ مدینہ منورہ سے باہر جا کر رہے۔کوئی شام رہائش رکھتا تھا کوئی مصر میں اور کوئی عراق میں اور یہ سب امت مسلمہ کے لئے اُسوہ تھے۔مدینہ میں رہ جانے والے صحابہ کو اُن پر کوئی خاص علمی فضیلت نہیں تھی۔پھر خود اہل مدینہ ایک دوسرے سے کئی باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں۔اگر وہ آپس میں اختلاف کر سکتے ہیں تو دوسرے علاقہ کے علماء اُن سے اختلاف کا اظہار کیوں نہیں كان للليث قرية بتمامها يجيء اليه خراجها فيعطى الناس منها الامام الشافعي صفحه ۱۷۴) الليث بن سعد فقيه مصر صفحه ۶۱ الليث بن سعد صفحه ۷۰ كان ليث بن سعد فى مصر يملأ الأرض علما بالشتن و بالفقه طوال حياة مالک ) مالک بن انس صفحه ۲۸۱) - ويقول الشافعى العلم يدور على ثلاثة مالك والليث و سفیان بن عیینه الامام الشافعي صفحه (۱۷۳)