تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 3
3 بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ و بی قوم زندہ کھلانے کی مستحق ہوتی ہے جو اپنی روایات اور تاریخ کو زندہ رکھتی ہے۔انصار اللہ کی تنظیم جماعت احمدیہ کی ایک ذی تنظیم ہے۔اس کی بنیا د ستید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کے مبارک ہاتھوں سے لکھی گئی خلفائے احمدیت کی راہنمائی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک پروان چڑھتی رہی۔تاریخ اسلام میں انصار اللہ کے نام سے بڑی تابندہ اور درخشندہ روایات وابستہ میں ان روایات کی یاد و بانی اور تجدید کی غرض سے شور می انصار اللہ ھے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انصار اللہ کی تاریخ مدون کی جائے۔یہ 1 142 141 کام بہت محنت طلب تھا، کریم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب قائد تعلیم میں انصار اللہ مرکزہ یہ نے اس ذمہ داری کو قبول کیا اور بڑی محنت توجد اور کوشش کے ساتھ تاریخ کا مسودہ تیارہ کیا۔فجزاه الله احسن الجزاء الحمد للہ کہ مجلس مرکز یہ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو رہی ہے اور تاریخ انصار اللہ آپ کے ہاتھوں میں پہنچ ہی ہے۔۱۳۵۱ جش انصاراللہ اس کتاب میں نہ صرف یہ کہ انصار اللہ کی تاریخ کے مختلف ادوار اور ترقی کا ذکر ہے بلکہ حضرت خليفة السيح الثاني المصلح الموعود رضی اللہ عنہ ، حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب کے دو ارشادات اور ہدایات جو وقتا فوقتا انہوں نے انصار اللہ کو ارشاد فرمائیں اور انصارالہ کے قیام کی جو اغراض انہوں نے متعین فرمائیں درج کر دی ہیں۔میں ممبران سے اپیل کرونگا کہ وہ اس تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں انصار اللہ کے قیام کی اغراض کو مجھیں اور خلفائے احمدیت کے ارشادات کی روشنی میں اپنی روایات کو زندہ وتابندہ رکھتے ہوئے آگے بڑھیں کہ مومن ہمیشہ جوان ہوتا ہے۔بکوشید اسے جوانان تا بدین قوت شود پیدا بہار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا خاکسار در خا دا اکتوبر هایش مرزا مبارک احمد مصد اعلی انصار الله مرکز یہ 194