تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 253
۲۵۲ حضور کی واپسی کے بعد اجلاس کی کارروائی زیر صدارت مولوی محمد دین صاحب صدر صدر انجمن احمدید جاری رہی اجلاس کے دوسرے حصہ میں حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر علی نے بھی صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔سب سے پہلے مولانا ابو العطاء صاحب نے میران مانگیر بکس انصار اللہ کی طرف سے مولانا جلال الدین صاحب شمس کی وفات پر قرار داد تعزیت پیش کی اور عمران نے اس کی منظوری دی۔اس کے بعد مولانا الجوالعطاء صاحب نے محاسبہ نفس کے موضوع پر قرآن کریم کا درس دیا۔اسی موضوع پر درس حدیث اور درس کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالترتیب شیخ عبد القادر صاحب مربی اور مولانا غلام احمد صاحب فرخ نے دیا۔درسوں کے بعد تقریبی میلوں کیلئے وقعہ ہوا جس میں رستہ کشتی، والی بال وغیرہ کے مقابلے ہوئے۔دوسرا اجلاش ساڑھے سات بجے نائب صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب شروع ہوا۔پہلے آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ مجلس راولپنڈی کی تجویز کے سلسلہ میں مجلس عاملہ مرکزیہ نے غور کیا اور حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں یہ تجویز بھجوائی کہ " مجلس مرکز یہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں درخواست کرتی ہے اور اس میں اپنی سعادت سمجھتی ہے کہ حضور ہی مجلس انصار اللہ کی صدارت فرمائیں اور نائب صدر بھی حضور کی طرف سے نامزد ہوئے اس درخواست کو حضرت امیرالمومنین نے منظور فرما لیا اور ارشاد فرمایا کہ >) ایک سال کے لیے منظور ہے ؟ اس اعلان کے بعد قائدین نے اپنے اپنے شعیہ کی کارگذاری کی سالانہ رپورٹیں پیش کیں بعد ازاں شوری کا اجلاس ہوا۔جس میں صرف نمائندگان نے کارروائی میں حصہ لیا۔دس بجے تک شوری کا اجلاس جاری رہا اس کے بعد آخر میں مولوی محمد صادق صاحب مبلغ انڈونیشیا نے قبولیت دعا کی دو ذات مثالیں پیش کیں۔تعمیرا جلاش اگلے روز ۲۹- اضاء بعد نماز تمجد و نمبر شیخ مبارک احمد صاحب کی صدارت میں ہوا۔مولوی نذیر احمد صاحب مبشر نے قرآن کریم کا درس دیا اس کے بعد حافظ عبدالسمیع صاحب اور مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے ذکر حبیب" کے سلسلہ میں اپنی روایات سنائیں۔کے بہکے ناشتہ کے لیے وقفہ ہوا۔ك الفضل ۳ نبوت نومبر ۱۳۳۵ مش الفضل ۴ نبوت النومبر ۳۳۵ میش