تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 210
اجتماعی طور پر خدام الاحمدیہ کے ہال میں کیا جاتا ہے۔کھانا صدر مجلس کی نامزد کر دیکھی کی نگرانی میں بڑے اہتمام سے تیار کیا جاتا ہے اور ہر لحاظ سے نفیس اور عمدہ ہوتا ہے اور بڑے سلیقے سے ایک یا دو نشست میں کھلایا جاتا ہے پاکستان بننے کے بعد پہلا سالانہ اجتماع تو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے فضل عمر ہوسٹل میں پیش ۱۳۳۴ ہے۔میں ہوا تھا ، اس کے بعد سے تمام اجتماعات دفتر انصار اللہ کے احاطہ میں ہی ہوتے رہے ہیں۔دفتر کی عمارت کے شمالی جانب ہو کھلی جگہ ہے اس میں شامیانے اور قناتیں لگا کر جلسہ گاہ تعمیر کی جاتی ہے۔اس جلسہ گاہ میں مغربی جانب سٹیج ہوتا ہے انتقام اجتماع میں داخلہ بذریعہ ٹکٹ ہوتا ہے نمائندگان کے ٹکٹ الگ ہوتے ہیں اور ان کے لیے سامنے کے حصہ میں جگہ مخصوص ہوتی ہے ، زائرین کے لیے بھی ٹکٹ ہوتے ہیں اور ان کے لیے جلسہ گاہ کے عقبی حصہ میں جگہ ہوتی ہے۔یہ اجتماع عام طور پر مجلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماعات کے قریباً ایک ہفتہ بعد ہوتا ہے تاکہ اگر خدام بھی اس سے استفادہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں اور بفضل تعالیٰ تخدام اور اطفال کی کثیر تعداد اس پروگرام میں نہایت ذوق و شوق سے حصہ لیتی ہے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے بعض منتخب اراکین بحیثیت نمائندہ خدام ال محمد یہ اس اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔آخری اجلاس میں امتحانات میں اول و دوم آنے والے اراکین نیز تقریری مقالہ جات اور نظر کی کلیوں کے مقابلوں میں اول و دوم آنے والوں کو حضرت امیر المومنین اپنے ہاتھ سے انعامات تقسیم فرماتے ہیں، وظیفہ انعامی کے مقابلہ میں اول و دوم آنے والے اطفال کو بھی اسی موقعہ پر انعامات دیئے جاتے ہیں۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کو ایک نمایاں خصوصیت مرکز کی اجتماع کی ایک خصوصیت یا یہ حاصل ہے کہ حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اجتماع کے دوسرے اور تیرے دن کی درمیانی شب تمام نمائندگان انصار الله اور قائدین مرکزیہ کی معیت میں کھانا تناول فرماتے ہیں۔کھانے کا انتظام ایوان محمود میں ہوتا ہے۔حضور کے لیے قائدین مرکز یه ناظمین اضلاع اور بعض دیگر افراد کے ساتھ سٹیج پر کھانے کا انتظام ہوتا ہے تاکہ سب دوست حضور کو دیکھ سکیں۔یہ تقریب نہایت سادہ ہونے کے با وجود بڑی پُر وقار ہوتی ہے اور اپنے اندر بڑی جاز بیت رکھتی ہے تمام حاضرین اپنے امام ہمام کے ساتھ کھانے میں شریک ہو کر مسرت اور روحانی تسکین محسوس کرتے ہیں اور اس کی نہایت خوشگوار یادیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔