تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 143 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 143

۱۴۳ تیرھواں باب انتصارات کا جد محمد جھنڈا علم انعامی اور استار خوشنوی ابتدائی عمد ۳۰ در نبوت نومبر ۱۳۲۳ پیش کو یہ فیصلہ کیا کہ انصاراشد کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے لیے رنویر ۱۹۳۴۴ ایک عہد مقرر ہونا چاہیے اور اس کے الفاظ وہی تجویز کئے جائیں بہو حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ش کے جوابی کے جلسہ میں سوائے احمدیت بلند کرتے وقت فرمائے تھے چنانچہ یہ تجویز منظور کرلی گئی اور انصار الہ کے ابتدائی تنظیمی دور میں اس امر کا ذ کہ آچکا ہے کہ جیس انصار اللہ مرکزی نے 1/19 اس کے مطابق عمل ہونے لگا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب صدر مجلس کی طرف سے یہ ہدایت جاری کی گئی کہ جملہ مجالس انصاراللہ اپنے جلسوں اور اجتماعات میں کھڑے ہو کر محمد کو دہرایا کریں۔شروع میں پہلے ایک دفعہ اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبده و رسوا و رسولہ کیا جائے، پھر عہد کے الفاظ تین مرتبہ دہرائے جائیں۔عہد کے الفاظ مجلس کا وہ عہد یدار کہلوائے گا میں نے انصار کا اجلاس طلب کیا ہو مثلاً زمیم انائب زعیم یا مسلم اور مرکز میں قائد صاحبان میں سے کوئی یا صدر مجلس۔ابتدائی دور میں صدر مجلس کی مندرجہ بالا ہدایت پر عمل ہوتا رہا ہے لیکن مجلس انصاراللہ مرکز یہ ۱۳۳۵ جدید محمد کے سالانہ اجیت کے منعقدہ ۲۷ اضاء/ اکتوبر ۳۵ بارش کے موقع پر حضرت امیرالمونین اجتماع - 1904 خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک اور عہد تجویز فرمایا اور اسے اپنی افتتاحی تقریر سے قبل کہلوایا ، له الفضل اور فتح کر دسمبر مش ۱۳۲۳ پیش