تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 138
ماہنامہ انصار الله اس دور میں نشر واشاعت کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔یہ تنظیم کے لیے اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کا کوئی آرگن یا رسالہ ہو جس کے ذریعہ وہ اپنے خیالات اور معتقدات کی تشہیر اور توضیح کر سکے مجلس انصارالہ کو بھی یہ ضرورت محسوس ہورہی تھی تر تنظیم سے متعلق مختلف امور اور ہدایات کو مجالس تک پہنچانے کا کوئی ذریعہ € 1904 ہونا چاہیے۔راکین کی تعلیم و تربیت اور آئندہ نسلوں کی اصلاح کے پیش نظربھی اس امرکی ضرورت تھی کو تنظیم کی جانب سے کوئی کہ سالہ شائع کیا جائے۔اس ضرورت کے پیش نظر میں کی شورٹی میں یہ فیصلہ ہوا کہ میمن مرکز یہ ایک ماہوار رسالہ شائع کرے جس میں مجالس انصاراللہ سے متعلق پروگرام، کار کردگی کی رپورٹیں اور ضروری ہدایات شامل ہوں۔اس رسالہ میں انتظامی اور تربیتی امور کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفونات نیز حضور کی عربی تحریروں کے تراجم بھی شائع کئے جائیں اور ہر مجلس کے لیے اس کی خریداری لازمی قرار دی جائے چنانچہ اس فیصلہ کے بموجب ماہ نبوت (۱۳۳۹ میں سے ایک ماہانہ رسالہ کی اشاعت شروع کی گئی اور حضرت 197” صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی تجویز کے مطابق اس کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔اس کی ادارت کے فرائض مسعود احمد صاحب دہلوی ایڈیٹر روز نامہ الفضل کے سپرد کئے گئے اور طابع وناشر چوہدری محمد ابراہیم صاحب ایم اے انچارج دفتر انصار اللہ مقرر ہوئے۔یہ رسالہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ میں چھپنا شرٹ ہوا اور اس کی سالانہ قسمیت پانچ روپے مقر ہوئی۔اس ماہنامہ کے اغراض و مقاصد کا ذکر کسی قدر تفصیل سے پہلے شمارہ کے ایڈٹیوریل میں کیا گیا ہے اس لیے اس کا ایک اقتباس اس جگہ درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے :- "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسی اور جذب کشش کے طفیل آپ کے صحابہ نے اسلامی تعلیم پر کما حقہ عمل کرتے ہوئے نصرت دین اور راہ خدا میں فدائیت کا جو نمونہ دکھایا تھا اس روح اور جذ بہ کو نئی نسلوں میں منتقل کرنے اور اسلام کو ان کی زندگیوں میں نافذ کرتے ہوئے ان میں بھی حتی پر شار ہونے کا ولولہ پیدا کرنے کے لیے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جماعت میں اطفال الاحمدیہ ، ناصرات الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کی تنظیمیں قائم فرمائی ہیں چنانچہ اسی فرض کے ماتحت اب