تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 66 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 66

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۶۶ ناظمین اضلاع کو اسناد خوشنودی دیئے جانے کے لئے حضورانور کی خدمت اقدس میں سفارش کی۔ا۔نظامت ضلع لاہور اول ناظم ضلع مکرم طاہر احمد ملک صاحب ۲۔نظامت ضلع اسلام آباد دوم ناظم ضلع مکرم چوہدری عبدالواحد ورک صاحب ۳۔نظامت ضلع ڈیرہ غازیخان سوم ناظم ضلع مکرم عبدالقدیر طاہر صاحب۔لاہور اور ڈیرہ غازیخان کو تاثر کے بہیں ہیں نمبر دیئے گئے۔اس کے بعد قائدین کرام نے اپنی ماہانہ رپورٹس پیش کیں۔مندرجہ ذیل رپورٹس پیش کی گئیں۔قیادت عمومی ، صف دوم، اشاعت، زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ، ذہانت وصحت جسمانی تحریک جدید، آؤٹ ، تربیت، اصلاح وارشاد، مال اور تعلیم۔اس دن سالا نہ دعوت کا پروگرام تھا۔یہ میٹنگ دعا کے بعد ساڑھے پانچ بجے اختتام پذیر ہوئی۔باقی رپورٹس کے بارہ میں محترم صدر صاحب نے ہدایت فرمائی کہ وہ انہیں ڈاک میں بھجوا دی جائیں۔نماز جمعہ میں تجار کی شمولیت کے لیے مساعی سال گزشتہ کی طرح اس سال بھی آغاز سے ہی صدر محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے نماز جمعہ اور دیگر نمازوں میں تجار کی شمولیت کو یقینی بنانے کی طرف اپنی خاص توجہ مبذول رکھی۔اس ضمن میں مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ ۱۷؍جنوری ۲۰۰۱ ء میں صدر محترم نے مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اقصیٰ روڈ اور رحمت بازار میں بعض بااثر آدمیوں کی ڈیوٹی لگائیں جو جمعہ کے وقت دکانیں بند نہ کرنے والوں کو نرمی سے توجہ دلائیں۔اسی طرح نمازوں کے لئے بھی ست افراد کی فہرست بنائی جائے اور ان کو باقاعدگی کے ساتھ مناسب اور مؤثر رنگ میں تلقین کی جاتی رہے۔اس ہدایت پر مجلس مقامی ربوہ نے جنوری ۲۰۰۱ء میں ایک مربوط منظم پروگرام کے تحت جمعہ کے روز نماز سے قبل دکانیں بند کرانے کے لیے کوشش شروع کی۔رحمت بازار، گول بازار، ریلوے روڈ ، قطی روڈ، کالج روڈ پر واقع دکانوں کو بند کرانے کے لیے بعض منتظمین کی ڈیوٹی لگائی گئی نیز حلقہ جات میں صدران محلہ اور زعماء انصار اللہ کا بھی تعاون حاصل کیا گیا۔مسلسل کوشش اور رابطہ سے اس سلسلہ میں کامیابی ہوتی چلی گئی۔اور اکثر تا جر خود ہی دکانیں بند کر کے نماز جمعہ میں حاضر ہونے لگے۔بعض ست دکانداروں سے ملاقات کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا۔اس سلسلہ میں صدر صاحب عمومی اور صدر تجار کمیٹی ربوہ کا بھی تعاون حاصل رہا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔