تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 41 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 41

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۴۱ گھٹیالیاں میں احمد یہ بیت الذکر پر فائرنگ اور شہادتیں مورخه ۳۰ /۱ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو صبح چھ بجے کے قریب گھٹیالیاں خورد ضلع سیالکوٹ کے شرقی جانب واقع جماعت احمدیہ کی بیت الذکر میں نامعلوم نقاب پوشوں کی فائرنگ سے پانچ احباب راہ مولا میں قربان ہو گئے۔ان کے علاوہ چھ احمدی احباب شدید زخمی ہوئے جن کو میوہسپتال لاہور پہنچایا گیا۔تفصیلات کے مطابق صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد درس قرآن کریم ختم ہونے کے بعد دہشت گردوں نے بیت الذکر کے اندر آ کر کلاشنکوف کے برسٹ مارے جس کے نتیجے میں دو احمدی احباب موقعہ پر راہ مولا میں قربان ہو گئے جبکہ باقی تین احباب ہسپتال جاتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔زخمیوں کو پہلے نارووال لے جایا گیا وہاں سے لاہور منتقل کیا گیا۔حملہ آور کار میں پسرور کی طرف فرار ہو گئے۔راہ مولا میں قربان ہونے والے انصار مکرم عطاء اللہ صاحب ولد مولا بخش صاحب ( عمر ۶۵ سال) اور مکرم غلام محمد صاحب (عمر ۶۸ سال) تھے۔جبکہ زخمی ہونے والے انصار میں مکرم ماسٹرمحمد اسلم صاحب ولد غلام قادر صاحب ( عمر ۶۱ سال) اور مکرم نصیر احمد صاحب ولد غلام محمد صاحب ( عمر ۶۰ سال) شامل تھے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقامی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری جمعیت موقع پر پہنچ گئی۔ملکی اخبارات نے یہ خبر شہ سرخیوں سے شائع کی۔بی بی سی نے بھی خبروں اور سیربین میں واقعہ کی تفاصیل بیان کیں۔مرحومین کی نماز جنازہ اور تدفین گھٹیالیاں ہی میں ہوئی۔10 راہ مولیٰ میں میں شہید ہونے والے دونوں انصار کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے: (۱) راہ مولا میں قربان ہونے والے ناصر مکرم عطاء اللہ صاحب ولد مولا بخش صاحب کی عمر ۶۵ سال تھی۔آپ کوہ نور آئل ملز مرید کے سے ریٹائر ہوئے تھے اور آج کل زمیندارہ کرتے تھے۔پنجگانہ نماز کے عادی اور مخلص احمدی تھے۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا اور جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔آپ کو راہ مولیٰ میں قربان ہونے کی خواہش تھی جو اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی۔آپ نے شہادت کے دن پہلے مسجد میں نماز تہجد ادا کی اور پھر فجر کا انتظار کیا۔نماز کے بعد درس سنا۔قبلہ رخ بیٹھے تھے کہ آپ کو گولیاں لگیں اور شہادت کا رتبہ پایا۔پسماندگان میں اہلیہ زہرہ بیگم صاحبہ کے علاوہ چھ بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔(۲) مکرم غلام محمد صاحب شہدائے گھٹیالیاں میں سب سے معمر بزرگ تھے۔آپ نے ۶۸ سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔زمیندارہ پیشہ سے وابستہ تھے۔پنجوقتہ نمازوں کے عادی اور جماعتی پروگراموں