تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 282 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 282

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۶۲ کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوں تا معلوم ہو سکے کہ وہ صحیح رنگ میں علم حاصل کر چکے ہیں یا نہیں۔چنانچہ حضور“ فرماتے ہیں: چونکہ یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ہماری اس جماعت میں کم از کم ایک سو آدمی ایسا اہلِ فضل اور اہلِ کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعوی کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ، ان سب کا اس کو علم ہو۔۔۔پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اور اہل علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۱ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے تیار ہو جائیں اور دسمبر آئندہ کی تعطیلوں پر قادیان میں پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دیں۔اسی سلسلہ میں بعد کو حضور نے فرمایا: دسمبر کے آخر میں جو احباب کے واسطے امتحان تجویز ہوا ہے۔اس کو لوگ معمولی بات خیال نہ کریں اور کوئی اسے معمولی عذر سے نہ ٹال دے۔یہ ایک بڑی عظیم الشان بات ہے اور چاہیئے کہ لوگ اس کے واسطے خاص طور اس کی تیاری میں لگ جاویں۔“ نیز حضور نے فرمایا: ”ہماری جماعت کو علم دین میں تفقہ پیدا کرنا چاہئے۔۔۔ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں، قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو وہ اُسے کافی جواب دے سکیں۔ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی ، بہت ضروری تھی۔اس کا ضرور بندوبست ہونا چاہئے۔۴ ان ارشادات کی روشنی میں اراکین انصار اللہ کے علمی معیار کو بلند کرنے کے لئے مجلس انصاراللہ پاکستان میں مرکزی امتحانات کا مفید سلسلہ جاری ہے جس کے نصاب میں قرآن کریم ، احادیث ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور کتب خلفائے سلسلہ رکھی جاتی ہیں۔سال ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۳ ء تک کے سہ ماہی امتحانات کی تفصیل اس طرح سے ہے۔