تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 218 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 218

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۹۸ پرانے عہد یدار ان کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے اور نئے عہدیداروں کو شعبہ جات کے جملہ امور سے آگاہ کیا جاتا ہے۔آپ نے مرکزی مہمانوں کی اس ریفریشر کورس میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔مکرم ڈاکٹر عبدالخالق خالد صاحب صدر اجلاس نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ضلع کراچی کی چار مجالس پہلی دس پوزیشنوں میں آئی ہیں۔لیکن پہلی تین پوزیشنوں میں کوئی مجلس نہیں آئی جس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔آپ نے اپنے خطاب میں وقت کی پابندی اور نفس کے جہاد کی اشد ضرورت پر زور دیا۔افتتاحی خطاب کے بعد مکرم عبد الباری قیوم شاہد صاحب نائب ناظم عمومی ضلع کراچی نے شعبہ عمومی کا پروگرام پیش کیا۔مکرم نائب صدر صف دوم و قائد تعلیم نے ضلع کراچی کے شعبہ تعلیم کی مساعی کو سراہا۔نیز ہدایت کی کہ جن انصار کے پاس سائیکل ہیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے۔صف دوم کے انصار پکنک پر سائیکلوں کے ذریعہ جائیں۔آپ نے بتایا کہ گذشتہ سال کراچی کا سائیکل سفر بہت کامیاب رہا جس میں ایک سو سائیکلسٹ انصار شامل ہوئے۔مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب قائد اصلاح وارشاد نے نماز با جماعت کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ نائب ناظم تربیت منتظم تربیت اور نائب زعیم تربیت کی ٹیم کے مل کر کام کرنے سے شعبہ کا کام آسان اور بہتر ہوسکتا ہے۔تربیت نو مبائعین کے بارہ میں بتایا کہ بیج بونے کے بعد اگر نگہداشت نہ ہو تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔اجلاس دوم: اجلاس دوم میں شعبہ مال کے بارے میں مکرم عبدالرشید سماٹری صاحب نے عہد یداران کو مرکزی ہدایات سے آگاہ کیا اور ہر مجلس کو بجٹ کی بر وقت ترسیل اور روز نامچہ دکھاتہ میں با قاعدہ اندراج کرنے کی طرف توجہ دلائی نیز چندہ جات کی تدریجی وصولی کی تاکید کی۔مکرم بشیر الدین عباسی صاحب آڈیٹر نے تحریک کی کہ زعماء اعلیٰ مجلس کے حسابات کا بروقت آڈٹ کروائیں۔مقامی آڈیٹر بھی حلقوں کا آڈٹ کرے۔ضلع کا آڈیٹر مجالس اور ضلع کا آڈٹ کرتا ہے۔اس موقعہ پر صد راجلاس نے فرمایا کہ تجنید میں اضافہ بجٹ میں اضافہ کا ذریعہ بنتا ہے۔شعبہ مال کو ہر ناصر کو بجٹ میں شامل کرنے اور تدریجی وصولی کی طرف بھی توجہ دلائی۔مکرم جمیل احمد بٹ صاحب سیکرٹری دعوت الی اللہ کراچی نے کہا کہ حضور انور نے تمام عہدیداران کو اس شعبہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔تمام منتظمین اصلاح و ارشاد کو سیکرٹری دعوت الی اللہ کے ساتھ مل کر اس میدان