تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 168
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۴۸ کار پارکنگ، وقار عمل ، مہمان نوازی ، جنازہ روانگی کے انتظامات اور اعلانات وغیرہ شامل تھے۔اطفال کی ایک بڑی تعداد نے پانی پلانے کے انتظامات کئے۔مہمانوں کی آمد کی وجہ سے دارالضیافت میں کھانے کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔معزز مہمانوں کی رہائش کا انتظام مختلف گیسٹ ہاؤسز میں کیا گیا جن میں خدام واطفال نے ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔۳۰ / جولائی ۲۰۰۲ء کو احباب جماعت کی ایک کثیر تعداد جنازہ میں شمولیت کے لئے بیت المبارک میں صبح نو بجے سے قبل ہی پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔جنازہ کے وقت بیت المبارک کا تمام مسقف حصہ گیلریوں سمیت بھر چکا تھا نیز بیت المبارک کے پختہ مسکن اور باہر لان کے علاوہ بیت المبارک کی بیرونی گرین بیلٹس میں بھی احباب موجود تھے۔صبح دس بجے بیت المبارک میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔جنازہ میں بیرونی ممالک اور ربوہ کے علاوہ پاکستان کے دور دراز علاقوں اور آزاد کشمیر سے تشریف لائے ہوئے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا جسد خاکی تدفین کے لئے بہشتی مقبرہ لے جایا گیا تو ڈاکٹر سلطان احمد مبشر مہتم مجلس خدام الاحمدیہ مقامی کی سرکردگی میں خدام ربوہ نے جنازہ کے گرد ایک دائرہ بنالیا اور احباب جماعت منتظم طریق پر آسانی سے جنازہ کو کندھا دیتے رہے۔انتہائی اعلیٰ اور پُر وقار انتظامات کے ساتھ جنازہ بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں لے جایا گیا۔آپ کو آپ کی والدہ حضرت سیدہ سرور سلطان جہان صاحبہ کے قدموں میں (ایک رو نیچے ) اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے پہلو میں دفن کیا گیا۔تدفین کے وقت قطعہ خاص میں خاندان حضرت اقدس مسیح موعود ، جماعت کے تمام اہم عہدیدار ، خدمت گار اور بزرگان سلسلہ موجود تھے۔قبر تیار ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے ہی اجتماعی دعا کروائی۔۲۰ حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات پر مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کی قرار داد تعزیت مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات پر اپنے ایک غیر معمولی اجلاس منعقدہ مؤرخہ ۲۸ / جولائی ۲۰۰۲ء میں مندرجہ ذیل قرار داد تعزیت منظور کی جو سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع کے علاوہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل خاندان کو بھی بھجوائی گئی۔